Technology
سٹینفورڈ کے نئے پینلز پانی کو ہوا کے درجہ حرارت سے بھی کم ٹھنڈا کرنے لگے
سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسے جدید پینلز تیار کیے ہیں جو صرف سورج کی روشنی اور آئینوں کی مدد سے پانی کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ یہ منفرد ٹیکنالوجی سورج کی شعاعوں کو منعکس کرتی ہے اور حرارت کو براہ راست خلا میں خارج کرتی ہے۔
سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرینِ طبعیات اور انجینئرز نے ایک ایسا انقلابی نظام تیار کیا ہے جو روایتی ائیر کنڈیشنگ اور کولنگ سسٹمز کے برعکس بجلی کے بغیر پانی کو انتہائی درجے تک ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے تحت چھتوں پر ایسے خاص شیشے جیسے آئینہ دار پینلز نصب کیے جاتے ہیں جو سورج کی روشنی کو مکمل طور پر منعکس کر دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پانی میں موجود حرارت کو فضا میں جذب کرنے کے بجائے براہ راست کائنات کے سرد خلا میں خارج کر دیتے ہیں۔
تجرباتی مراحل کے دوران محققین نے ان پینلز کے نیچے پانی کا بہاؤ جاری رکھا اور حیرت انگیز نتائج حاصل ہوئے۔ ان پینلز نے اردگرد کے ماحول اور ہوا کے درجہ حرارت کے مقابلے میں پانی کو تین سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ٹھنڈا کر دکھایا۔ اس عمل میں کسی قسم کی مکینیکل انرجی یا روایتی بجلی کا استعمال نہیں کیا گیا، جو اس ایجاد کو ماحولیات اور توانائی کے بحران کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نظام سے صنعتی پیمانے پر پانی کو ٹھنڈا کرنے کے عمل کو انتہائی ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی اور بجلی کی شدید قلت کے اس دور میں، کولنگ سسٹمز کے لیے بجلی کی کھپت ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ عمارتوں کو ٹھنڈا کرنے اور صنعتی عمل کے لیے پانی کو ٹھنڈا رکھنے پر دنیا بھر میں اربوں یونٹ بجلی صرف ہوتی ہے۔ سٹینفورڈ کے محققین کی یہ نئی ایجاد اس مسئلے کا ایک پائیدار حل فراہم کرتی ہے، کیونکہ یہ قدرتی مظاہر یعنی خلا کی قدرتی سردی اور سورج کی روشنی کی عکاسی کو بروئے کار لاتی ہے۔
آئندہ کے منصوبوں کے حوالے سے محققین اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینے اور تجارتی بنیادوں پر عام کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اگر اس نظام کو بڑے پیمانے پر دفاتر، کارخانوں اور رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر نافذ کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی، جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔