Technology
پاکستان میں سرکاری تجارتی ڈیٹا کے لیے AI پلیٹ فارم کا قیام
پاکستان حکومت سرکاری تجارتی ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ملکی سطح پر ایک جدید مصنوعی ذہانت (AI) پلیٹ فارم تیار کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی معیشت کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور اہم معلومات کو محفوظ بنانا ہے۔
اسلام آباد (نیکسٹورا نیوز اردو) پاکستان میں سرکاری تجارتی ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل خودمختاری کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم نوعیت کے منصوبے پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ملک کے تجارتی اور معاشی اعداد و شمار کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے اور ان کی جدید خطوط پر پراسیسنگ کے لیے ایک ملکی سطح کا مصنوعی ذہانت (AI) پلیٹ فارم تیار کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ وزارت تجارت اس ضمن میں مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملکی معیشت کی حساس معلومات کو اندرون ملک ہی انتہائی محفوظ طریقے سے منظم کیا جا سکے۔
حالیہ ہفتوں میں وزارتِ تجارت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے متعدد اہم اجلاس منعقد کیے گئے ہیں جن میں ایک جدید ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد وزارت کے تمام امور کو ڈیجیٹائز کرنا اور تجارتی اعداد و شمار کے نظام کو شفاف بنانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں جدید ڈیٹا سینٹرز کے قیام اور مصنوعی ذہانت کے بروئے کار لانے سے نہ صرف تجارتی فیصلوں میں بہتری آئے گی بلکہ پالیسی سازی کے عمل میں بھی تیزی آئے گی۔
دوسری جانب، پاکستان میں حال ہی میں تعمیر ہونے والے ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے بھی تکنیکی اور معاشی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی معیار کی ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے۔ ناقدین اور حامی دونوں ہی اس بات پر متفق ہیں کہ حکومتی سطح پر ڈیٹا کا تحفظ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، خصوصاً جب عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کے چیلنجز شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ملکی سطح پر AI پلیٹ فارم کے قیام سے سرکاری اداروں کو اپنے فیصلے خود کرنے میں مدد ملے گی اور ڈیٹا لیک ہونے کے خطرات بھی کم سے کم ہو جائیں گے۔
امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں وزارتِ تجارت اس ڈیجیٹل وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باقاعدہ روڈ میپ کا اعلان کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف تجارتی اعداد و شمار کو ڈیجیٹل شکل دی جائے گی بلکہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کی مدد سے مارکیٹ کے رجحانات کا بروقت اندازہ بھی لگایا جا سکے گا، جس سے ملکی برآمدات کو بڑھانے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔