LIVE
Loading Breaking News...

لیبیا کا برین ڈرین: پندرہ سال بعد بھی نوجوانوں کی ہجرت جاری

News Image
طرابلس کے زوال کو پندرہ برس گزر جانے کے باوجود لیبیا میں پروفیشنلز اور نوجوانوں کا ملک چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ باہر جانے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات میں بہتری نہ آنے کی وجہ سے ان کی وطن واپسی کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے زوال اور ملک میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کو پندرہ سال گزر چکے ہیں، لیکن اس طویل عرصے کے باوجود لیبیا سے ہجرت کا رجحان تھمنے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ملک میں جاری بحران کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوانوں، ڈاکٹروں، انجینئرز اور دیگر ماہرینِ فن کی بڑی تعداد مسلسل بیرونِ ملک منتقل ہو رہی ہے، جسے معاشی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید برین ڈرین قرار دیا جا رہا ہے۔ جو پروفیشنلز ماضی میں اس ہنگامہ خیز صورتحال کے دوران لیبیا چھوڑ کر چلے گئے تھے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اب دوبارہ وطن واپس آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق ملک میں استحکام، روزگار کے بہتر مواقع اور قانون کی بالادستی کا فقدان بدستور قائم ہے، جس کی وجہ سے وہ بیرونِ ملک ہی اپنے مستقبل کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب نئے نوجوان بھی اپنے روشن مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی یا قانونی راستوں سے لیبیا سے باہر جانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ ماہرینِ امورِ عالم کا کہنا ہے کہ لیبیا میں ہجرت کے اس بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک کے مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ جب کسی بھی ملک سے انتہائی قابل اور ہنرمند افراد ہجرت کر جاتے ہیں تو وہاں صحت، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے شدید تنزلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیبیا میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں تجربہ کار افرادی قوت کی کمی ملکی تعمیر و ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دیں۔ نوجوان نسل اور ہنرمند پروفیشنلز کو ملک کے اندر ہی باعزت روزگار اور سازگار ماحول فراہم کیے بغیر اس برین ڈرین کو روکنا ناممکن ہے۔ اگر فوری اور موثر اصلاحات نہ کی گئیں تو لیبیا اپنے بہترین دماغوں سے محروم ہو جائے گا، جس کے اثرات آنے والی کئی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔