World
عالمی بینک: جنگ کی وجہ سے لبنان کی معیشت میں 6.4 فیصد کمی کا خدشہ
عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کی وجہ سے لبنان کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی معیشت میں 6.4 فیصد کمی متوقع ہے۔ جنگ کے باعث ملک میں مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین معاشی تخمینے کے مطابق، اسرائیل کے ساتھ جاری تباہ کن تنازع اور جنگی حالات کی وجہ سے لبنان کی معیشت کو شدید بحران کا سامنا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں لبنان کی بحالی کی تمام تر امیدیں اور کوششیں پٹڑی سے اتر چکی ہیں، اور رواں برس ملک کی معیشت میں 6.4 فیصد تک کا نمایاں سکڑاؤ یا کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال ملک کے مالیاتی نظام اور عام شہریوں کی زندگیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس تنازع کے نتیجے میں لبنان کے اندر افراط زر اور مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ خوراک، ایندھن اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جس نے معاشی بحالی کے راستے کو مزید کٹھن بنا دیا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر امن کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم نہ کی گئی، تو لبنان کو انسانی اور معاشی دونوں محاذوں پر ایک طویل مدتی اور گہرے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کا برقرار رہنا پوری معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔