LIVE
Loading Breaking News...

ہوا سے پانی بنانے کی نئی ٹیکنالوجی، ایم آئی ٹی کا بڑا کارنامہ

News Image
میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے دھند سے پانی حاصل کرنے کے لیے ایک جدید اور بہتر جال تیار کیا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی زمین کے خشک ترین علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے محققین نے دنیا کے خشک ترین اور پسماندہ ترین خطوں میں پینے کے صاف پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ سائنسدانوں نے عام دھند کے جال کو جدید خطوط پر از سر نو ڈیزائن کیا ہے جس کے ذریعے ہوا میں موجود نمی اور دھند کے قطروں کو انتہائی مؤثر طریقے سے جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس نئی تحقیق میں دھند پکڑنے والے جال کے تاروں کے قطر، ان کے درمیانی فاصلے اور سطح پر کی جانے والی کوٹنگ میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ پانی کے حصول کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔ روایتی جال اس معاملے میں ناکافی ثابت ہوتے تھے کیونکہ وہ دھند کے تمام قطروں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ اس نئی تکنیک سے تیار کردہ جال نہ صرف زیادہ پائیدار ہیں بلکہ ان کی کارکردگی بھی پچھلے تمام طریقوں کے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہے۔ اس سائنسی پیش رفت کے ذریعے ان علاقوں میں بھی پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی جہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں یا زیر زمین پانی ختم ہو چکا ہے۔ فیلڈ کے دوران کیے جانے والے تجربات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس بہتر ڈیزائن شدہ جال نے پانی کی پیداوار میں ڈرامائی اضافہ کیا ہے جو کہ مقامی آبادی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک امید افزا قدم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو وسعت دے کر دنیا بھر کے ان علاقوں میں پینے کے پانی کا بحران حل کیا جا سکتا ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔ اس تحقیق کے مثبت نتائج نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا دی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں اسے تجارتی پیمانے پر بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ انسانیت کو درپیش پانی کے بحران سے نمٹا جا سکے۔