LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور کامرس کے لیے بینکوں کی تیاری

News Image
بینک ایسے نئے ادائیگی کے نظام تشکیل دے رہے ہیں جو مستقبل میں انسانوں کے بجائے سافٹ ویئر یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے شروع کیے جائیں گے۔ اس بدلتے ہوئے منظر نامے کی وجہ سے جاری کنندگان کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی بنیادیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اور بینک اب ایک ایسے مستقبل کی تیاری کر رہے ہیں جہاں مالیاتی لین دین اور ادائیگیاں انسانوں کے بجائے سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے نظام خود کار طریقے سے شروع کریں گے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ادائیگی کے پورے طریقہ کار کو یکسر بدل کر رکھ دے گی اور بینکوں کو اپنے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ تھالس کے کیو ریس کے مطابق، روایتی ادائیگیاں جو اب تک انسانی مداخلت یا منظوری سے ہوتی تھیں، آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اور سافٹ ویئر کے ذریعے انجام پائیں گی۔ اس تبدیلی کا براہ راست اثر اس ٹیکنالوجی پر پڑے گا جو ان ادائیگیوں کے پس منظر میں کام کرتی ہے۔ کارڈ جاری کرنے والے اداروں اور بینکوں کو اب اس بات کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا کہ انہیں اس نئی قسم کے سافٹ ویئر کامرس کے لیے کس قسم کی تکنیکی صلاحیتیں درکار ہیں۔ مستقبل قریب میں جب مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز خود بخود خریداریاں اور مالی لین دین کے فیصلے کریں گے، تو بینکنگ کے سسٹمز کو انتہائی تیز رفتار، محفوظ اور قابل اعتماد بنانا ناگزیر ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف مالیاتی خدمات کا دائرہ کار وسیع ہوگا بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی ایک نئی تیزی دیکھنے میں آئے گی، جس کے لیے تکنیکی تیاریوں کا آغاز تتاح سے کیا جا رہا ہے۔