Technology
ڈیجیٹل ایڈ ٹیک انڈسٹری میں بڑی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کا اثر
ڈیجیٹل اشتہاری دنیا میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور نئے قوانین نے صنعت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ ایک حالیہ انکشاف کے مطابق سونی کی تحقیقات میں کلائنٹس کے کروڑوں ڈالر کی مبینہ بے ضابطگیوں کا سراغ لگایا گیا ہے۔
ڈیجیٹل اشتہارات اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں حالیہ ہفتوں کے دوران بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) نے نہ صرف اشتہاری صنعت بلکہ سرچ انجن اور صارف کی ٹیکنالوجی کے پورے ماحولیاتی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینا شروع کر دیا ہے۔ اس دوران ریگولیٹرز اور صنعت کے بڑے کھلاڑی ڈیجیٹل مارکیٹ کے قواعد و ضوابط کو از سر نو طے کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی پس منظر میں اشتہاری صنعت سے جڑے ایک اہم انکشاف نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈبلیو پی پی (WPP) کے ایک سابق ایگزیکٹو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سونی (Sony) کی طرف سے کی جانے والی ایک اندرونی تحقیقات میں کلائنٹس کے ریبیٹس اور فنڈز کے حوالے سے تقریباََ 350 ملین ڈالر کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے نے ایڈ ٹیک (AdTech) انڈسٹری میں مالیاتی شفافیت اور احتساب کے عمل پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اشتہارات کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پیچیدہ مالیاتی معاملات اور مبہم معاہدے انڈسٹری کے لیے درد سر بنتے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے نفاذ سے جہاں ایک طرف اشتہاری مہمات کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف فراڈ اور ڈیٹا کے غلط استعمال کے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ریگولیٹری ادارے اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کمپنیوں کو اپنے مالیاتی کھاتوں اور کلائنٹس کے ساتھ ہونے والے لین دین میں مکمل شفافیت برتنی چاہیے۔
آنے والے دنوں میں اس تحقیقات کے نتیجے میں ڈیجیٹل اشتہاری کمپنیوں اور بڑے برانڈز کے درمیان تعلقات میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔ انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر کمپنیاں خود کو نئے قوانین کے مطابق نہیں ڈھالیں گی تو انہیں نہ صرف قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ صارفین اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجروح ہو گا۔