LIVE
Loading Breaking News...

امریکی محصولات اور کینیڈا کی معیشت پر اثرات

News Image
امریکہ کی جانب سے کینیڈین شعبوں پر پچاس فیصد محصولات عائد کرنے کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کینیڈا کی معیشت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوگی۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں ممالک کے مابین تجارتی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی امور پر جاری مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد واشنگٹن نے کینیڈا کے اہم ترین معاشی شعبوں پر پچاس فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سخت فیصلے کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر معاشی مبصرین کی جانب سے اس کے دور رس نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کینیڈا کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ اس کی برآمدات کا ایک بہت بڑا حصہ امریکی منڈیوں پر منحصر ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ان بھاری ٹیرفس کے نفاذ سے کینیڈا کے متعلقہ شعبوں کو فوری طور پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ برآمدات میں کمی کے باعث بعض کاروباری اداروں کو مالی خسارے کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ابتدائی معاشی تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اقدام کینیڈا کی مجموعی قومی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج یا تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کینیڈا کی معیشت کے دیگر ستون اور اندرونی مارکیٹ اتنی مضبوط ضرور ہے کہ وہ اس طرح کے بیرونی جھٹکوں کا ایک حد تک مقابلہ کر سکے۔ حکومت کینیڈا بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل تجارتی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے تاکہ متاثرہ صنعتوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری تھے کیونکہ مذاکرات میں مطلوبہ پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے سمجھوتۂ کار پر بات چیت دوبارہ شروع ہوتی ہے یا تجارتی تنازعات کا یہ سلسلہ مزید طویل ہوتا ہے۔