LIVE
Loading Breaking News...

پاناما کینال میں جہازوں کی آمدورفت محدود، عالمی تجارت پر اثرات

News Image
شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور ایل نینو کے اثرات کے پیش نظر پاناما کینال اتھارٹی نے ستمبر سے روزانہ گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے سے بین الاقوامی شپنگ کی رفتار سست ہونے اور تجارتی لاگت میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
عالمی تجارت کے ایک اہم ترین گزرگاہ پاناما کینال میں پانی کی سطح کم ہونے اور شدید موسمیاتی اثرات کے خطرے کے پیش نظر جہازوں کی آمدورفت میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ ماہ پندرہ ستمبر تک کینال سے روزانہ گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد کو چالیس سے کم کر کے بتیس کر دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد پانی کے ذخائر کو متوازن رکھنا اور جہازوں کو پھنسنے یا حفاظتی خطرات سے بچانا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین اور سمندری تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ جہازوں کی تعداد گھٹنے کی وجہ سے کینال کے دونوں اطراف بحری جہازوں کے طویل قطاریں لگنے کا امکان ہے، جس سے ترسیل میں تاخیر ہوگی۔ تاخیر اور طویل انتظار کے اس دورانیے سے کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے درآمدی و برآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ایل نینو نامی موسمیاتی رجحان نے خطے میں بارشوں کے معمولات کو تبدیل کر دیا ہے، جس کے باعث نہر کو بھرنے والے آبی ذخائر میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک نیچے چلی گئی ہے۔ پاناما کینال کے منتظمین حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور حالات کی بہتری تک یہ پابندیاں برقرار رہ سکتی ہیں۔