LIVE
Loading Breaking News...

یونٹری روبوٹس کا شنگھائی مارکیٹ میں شاندار آغاز، سی ای او کا بیان

News Image
چینی ہیومنائڈ روبوٹ بنانے والی کمپنی یونٹری کے شیئرز شنگھائی مارکیٹ میں شاندار آغاز کے بعد چھ سو فیصد تک بڑھ گئے۔ تاہم کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ روبوٹکس کے سافٹ ویئر میں بڑی پیشرفت ابھی کئی سال دور ہے۔
چین کی معروف ہیومنائڈ روبوٹ بنانے والی کمپنی یونٹری (Unitree) نے شنگھائی کی اسٹاک مارکیٹ میں ایک شاندار اور یادگار ڈیبیو کیا ہے، جہاں کمپنی کے شیئرز ابتدائی قیمت کے مقابلے میں چھ سو فیصد تک اچھل گئے۔ اس غیر معمولی کارکردگی نے سرمایہ کاروں کی توجہ ایک بار پھر روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے کی طرف مبذول کروا دی ہے، جو اس وقت عالمی سطح پر سرمایہ کاری کا سب سے گرم موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں خودکار سسٹمز اور روبوٹکس کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں اس زبردست جوش و خروش کے باوجود، یونٹری کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) وانگ زنگزنگ نے ایک پرسکون اور حقیقت پسندانہ مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے مبصرین کو خبردار کیا ہے کہ ہیومنائڈ روبوٹس کے لیے حقیقی معنوں میں ایک بڑا سافٹ ویئر بریک تھرو یا انقلابی تبدیلی حاصل کرنے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ ہارڈویئر کی تیاری اور مارکیٹ میں اس کا تعارف تیزی سے ہو رہا ہے، لیکن انسانی جیسی ذہانت اور پیچیدہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھنے والا سافٹ ویئر تیار کرنا ایک طویل مدتی اور صبر آزما عمل ہے۔ اس بیان نے ان مبصرین کے لیے ایک تنبیہ کا کام کیا ہے جو اکثر مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں راتوں رات معجزات کی توقع کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یونٹری کی مالیاتی کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ سرمایہ کار مستقبل کی ٹیکنالوجی پر بڑا داؤ لگانے کے لیے تیار ہیں، لیکن تکنیکی حقیقتیں اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ سافٹ ویئر کی ترقی، حفاظتی معیارات اور حقیقی دنیا کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے وقت درکار ہے۔ مجموعی طور پر، یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ روبوٹکس کی صنعت ایک انتہائی دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف جہاں مالیاتی منڈیوں میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے اور سرمایہ کار اس نوزائیدہ شعبے سے منہ مانگے منافع کی امید لگائے بیٹھے ہیں، وہیں صنعت کے قائدین حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طویل المدتی محنت اور تحقیق پر زور دے رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ کمپنیاں مارکیٹ کی بلند توقعات پر پورا اتر پاتی ہیں یا نہیں۔