LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ٹیلی کام نیٹ ورکس کا مستقبل

News Image
ٹیلی کام انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی نیٹ ورکس کو زیادہ لچکدار اور اوپن بنا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اوپن سورس اور اے آئی کے امتزاج سے مستقبل میں ٹیلی مواصلات کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ٹیلی کمیونیکیشن کی دنیا میں اس وقت ایک بڑی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جہاں ماہرین یہ پیشگوئی کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) اور اوپن نیٹ ورکس کا امتزاج روایتی ٹیلی کام سیکٹر کی جڑیں ہلا کر رکھ دے گا۔ یونیورسٹی آف برسٹل کی پروفیسر دیمیترا سیمیونیڈو سمیت کئی نامور ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مستقبل کا ٹیلی کام بنیادی ڈھانچہ زیادہ کھلا، لچکدار اور صارف دوست ہونا چاہیے۔ روایتی طور پر ٹیلی کام کے شعبے میں چند بڑی کمپنیوں کا غلبہ رہا ہے جو اپنے بند سسٹمز اور ملکیتی ہارڈ ویئر کے ذریعے پوری مارکیٹ کو کنٹرول کرتی ہیں۔ تاہم، اوپن ریڈیو ایکسیس نیٹ ورکس (Open RAN) اور مصنوعی ذہانت کے ملاپ سے اس اجارہ داری کو چیلنج مل رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے نیٹ ورک کی مینجمنٹ، ٹریفک کی روانی اور ڈیٹا کے بہاؤ کو خودکار طریقے سے بہتر بنایا جا سکتا ہے، جس سے انسانی غلطیوں کا امکان کم ہو جاتا ہے اور لاگت میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔ دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیلی کام کمپنیاں اس تبدیلی کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ان کے مالیاتی مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ اس کے باوجود، چھوٹے اور درمیانے درجے کے تکنیکی ادارے اس اوپن اپروچ کے ذریعے مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے پرامید ہیں۔ جب ہم مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فائیو جی (5G) اور آنے والی سکس جی (6G) ٹیکنالوجیز کو چلانے کے لیے محض روایتی طریقوں پر انحصار کرنا کافی نہیں ہوگا۔ مصنوعی ذہانت کی طاقت نیٹ ورک کی کارکردگی کو اس سطح پر لے جا سکتی ہے جہاں سسٹمز خود بخود خرابیوں کو دور کریں اور بینڈوتھ کی طلب کے مطابق خود کو ڈھال لیں۔ اس پوری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ اگرچہ ٹیلی کام نیٹ ورکس کو حقیقی معنوں میں اوپن بنانے کی راہ میں کئی تکنیکی اور تجارتی رکاوٹیں حائل ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا کردار اس منزل کے حصول کو ممکن بناتا دکھائی دے رہا ہے آنے والے برسوں میں یہی ٹیکنالوجی ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد ثابت ہوگی۔