World
ترکیہ اور مغربی تعلقات میں کشیدگی، نیا عالمی تجزیہ سامنے آگیا
مغربی میڈیا رپورٹس میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور نیٹو کے اندر اس کے کردار پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اردوان کی قیادت میں ترکیہ مغربی اقدار اور اسرائیل کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔
صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ کا کردار دنیا بھر میں ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ حالیہ تجزیوں میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترکیہ اب مشرق اور مغرب کے درمیان کوئی روایتی جمہوری پل نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسی توسیع پسندانہ طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے جو مغربی جمہوری اقدار اور اسرائیل کے وجود کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔ مغربی حلقوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ نیٹو کا یہ اہم رکن ملک اندرونی طور پر مغرب مخالف رجحانات کو فروغ دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی خارجہ پالیسی نے روایتی مغربی اتحادوں سے ہٹ کر ایک آزادانہ اور جارحانہ رخ اختیار کر لیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے امور پر انقرہ کا مؤقف اسرائیل کے لیے انتہائی سخت رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ترکیہ کے دفاعی اور اقتصادی اقدامات بھی ایسے ہیں جو مغربی مفادات کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، بالخصوص بحیرہ روم اور خطے کے دیگر تزویراتی مقامات پر۔
دوسری جانب، ترکیہ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ تاہم، مغربی دارالحکومتوں میں یہ آوازیں شدت اختیار کر رہی ہیں کہ نیٹو کے اندر رہتے ہوئے اس قسم کی پالیسیاں اتحاد کے اتحاد اور سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ترکیہ اور مغربی ممالک کے تعلقات کا مستقبل عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔