Technology
چینی ہیومنائڈ روبوٹس اور انسانی برتری: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنجز
بیجنگ میں ہونے والی عالمی روبوٹ کانفرنس کے موقع پر صنعت کے رہنماؤں نے انکشاف کیا ہے کہ ہیومنائڈ روبوٹس کی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر کارآمد بنانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ روبوٹس کارکردگی کے معاملے میں تاحال انسانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور انہیں نئی مہارتیں سیکھنے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔
بیجنگ میں منعقدہ عالمی روبوٹ کانفرنس کے موقع پر صنعت کے سرکردہ رہنماؤں اور ماہرین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جدید ہیومنائڈ روبوٹس کی تیاری اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانا آج بھی ایک بہت بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔ دنیا بھر میں روبوٹکس کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود مصنوعی ذہانت اور مکینیکل سسٹمز کو اس نہج پر لانا کہ وہ روزمرہ کے امور میں انسانوں کا مکمل نعم البدل بن سکیں، تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان کی تخلیقی صلاحیت، لچک اور کسی بھی نئی صورتحال کے مطابق فوری فیصلے کرنے کی اہلیت کا مقابلہ کرنا فی الحال روبوٹس کے بس کی بات نہیں۔
کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صنعت کے ماہرین نے بتایا کہ روبوٹس کو انسانوں کی طرح سوچنے، سمجھنے اور جسمانی طور پر انتہائی پیچیدہ کام انجام دینے کے لیے تربیت دینے کا عمل انتہائی پیچیدہ اور طویل ہے۔ روبوٹ ابھی بھی پیداواری عمل، صفائی، یا پیچیدہ ترسیلی امور میں انسانوں جتنی تیزی اور کفایت شعاری کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔ اگرچہ چین اور دنیا کے دیگر حصوں میں روبوٹکس کی ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، لیکن عملی میدان میں انسان اب بھی اپنی صلاحیتوں اور کارکردگی کے لحاظ سے روبوٹس سے کہیں آگے ہیں۔
اس کے علاوہ، روبوٹس کو نئے ماحول اور کام کے نئے طریقوں سے مطابقت پیدا کرنے میں بھی کافی وقت لگتا ہے۔ انسان کسی بھی نئی رکاوٹ کو دیکھ کر فورا اپنی حکمت عملی بدل لیتا ہے، جبکہ روبوٹ کے نظام کو اس قسم کی پروسیسنگ کے لیے الگ سے پروگرامنگ اور ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیکٹریوں یا دیگر شعبوں میں جہاں روبوٹس کا استعمال بڑھ رہا ہے، وہاں بھی انسانی نگرانی اور مداخلت کے بغیر کام چلانا فی الحال ناممکن ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس شعبے میں ابھی مزید کئی سال کی مسلسل تحقیق اور ترقی کی ضرورت ہے تاکہ روبوٹس انسانی صلاحیتوں کے قریب تر آسکیں۔