LIVE
Loading Breaking News...

خلا میں مکئی کی کاشت، ناسا کا تجربہ اور پودوں کی تبدیل شدہ نشوونما

News Image
ناسا کے ایک حالیہ تجربے کے دوران خلا میں اگائے جانے والے مکئی کے بیجوں میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ خلائی ماحول میں کشش ثقل کی کمی کی وجہ سے پودوں کی جڑیں اور شاخیں عام راستے کے برعکس مڑ گئیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے کیے جانے والے ایک اہم اور تاریخی تجربے میں خلا میں مکئی کے بیجوں کو اگایا گیا ہے، جس کے دوران حیرت انگیز سائنسی حقائق سامنے آئے ہیں۔ اس سائنسی تحقیق کا مقصد طویل مدتی خلائی مشنز اور مریخ یا چاند پر انسانی بستیوں کے قیام کے دوران خوراک کی پیداوار کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ تجربے کے دوران یہ دیکھا گیا کہ مائیکرو گریویٹی یعنی خلائی کشش ثقل کی عدم موجودگی میں مکئی کے پودوں نے زمین کے مقابلے میں بالکل مختلف انداز میں نشوونما پائی۔ مشاہدات سے پتہ چلا کہ زمین پر جس طرح پودوں کی جڑیں کشش ثقل کے زیرِ اثر سیدھی نیچے کی طرف جاتی ہیں، خلا میں ایسا نہیں ہوا۔ کشش ثقل نہ ہونے اور روشنی کے مناسب اشارے نہ ملنے کی وجہ سے مکئی کی جڑیں سائیڈ کی طرف پھیل گئیں جبکہ پودے کے شاخیں اور شگوفے بھی عجیب و غریب طریقے سے گھوم گئے۔ یہ انوکھی تبدیلیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پودوں کا اندرونی نظامِ نشوونما کشش ثقل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اس کی عدم موجودگی میں پودے الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج مستقبل کے خلائی سفر اور خلائی زراعت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جب خلا باز مستقبل میں چاند یا دوسرے سیاروں پر طویل قیام کریں گے تو انھیں اپنی خوراک خود اگانا ہوگی۔ اس تجربے سے حاصل ہونے والا ڈیٹا سائنسدانوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ ایسے خصوصی سسٹمز اور مصنوعی ماحول تیار کریں جن کی مدد سے خلا میں بھی پودوں کو بالکل زمین جیسا قدرتی اور سیدھا ماحول فراہم کیا جا سکے تاکہ خوراک کی پیداوار ممکن ہو سکے۔