Politics
عیمران خان ہسپتال منتقلی اور توہینِ عدالت کی کارروائی - نیکسٹورا نیوز
عیمران خان کی سیاسی جماعت نے سابق وزیر اعظم کو عدالت کے احکامات کے باوجود ہسپتال منتقل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے حکومت پر عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل میں قید سابق وزیر اعظم عیمران خان کو عدالتی احکامات کے باوجود ہسپتال منتقل نہ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے سینیئر رہنماؤں اور قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ عدالت نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ سابق وزیر اعظم کو طبی معائنے اور بہتر علاج کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے، مگر حکومت اور جیل انتظامیہ جان بوجھ کر ان احکامات پر عمل درآمد سے گریز کر رہی ہے۔
دوسری جانب عیمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے بھائی کو جان بوجھ کر کمزور کیا جا رہا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ سابق مصری صدر محمد مرسی جیسا انجام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی انتقام کی آگ میں اس حد تک آگے نکل چکی ہے کہ قیدی کے بنیادی انسانی اور طبی حقوق کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔ خاندان اور پارٹی کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عیمران خان کا فوری طور پر کسی معتبر ہسپتال میں طبی معائنہ کرایا جائے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی فیصلوں کی اس طرح صریح خلاف ورزی ملکی نظامِ عدل اور قانون کی بالادستی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تحریک انصاف کے وکلاء نے اس معاملے پر عدالتِ عظمیٰ اور متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری مکمل کر ली ہے تاکہ جیل حکام کی اس مبینہ ڈھٹائی اور عدالتی احکامات سے انحراف پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس تازہ پیش رفت سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔