LIVE
Loading Breaking News...

سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد اور ریلیف پیکج کا اعلان

News Image
وزیراعظم نے ملک بھر میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے تباہ ہونے والے گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں بجلی کے نظام کی فوری بحالی اور امدادی سامان کی ترسیل بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے نقصانات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مالی امداد کی فراہمی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک کے کئی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث کچے مکانات اور جھونپڑیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جس کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو واضح احکامات دیے ہیں کہ بارشوں اور سیلاب سے جن لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے، ان کے مالکان کو فوری طور پر معاوضہ ادا کیا جائے۔ اس کے علاوہ، متاثرہ علاقوں میں بجلی کے معطل ہونے والے نظام کو جلد از جلد بحال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرناپڑے۔ ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو بھی اس عمل کی نگرانی کرنے اور متاثرین تک بروقت رسائی حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ امداد اور ریلیف کی فراہمی کے سلسلے میں اب تک کل 615 ٹن امدادی سامان متاثرہ علاقوں کو روانہ کیا جا چکا ہے۔ اس امدادی سامان میں خیمے، راشن، صاف پانی اور طبی سامان شامل ہے تاکہ بے گھر ہونے والے افراد کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس مشکل وقت میں کسی بھی متاثرہ خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور تمام متاثرین کی مکمل بحالی تک امدادی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور وزیرِاعظم خود اس تمام صورتحال کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر مستقبل میں اس طرح کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ شہری علاقوں اور دیہی حصوں میں نکاسی آب اور بندش کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔