Technology
برازیل میں اے آئی سپر کمپیوٹرز کی تعمیر، ہواوے اور انویڈیا کا شراکت داری
برازیل حکومت نے مصنوعی ذہانت کے دو نئے سپر کمپیوٹرز کی تیاری کے لیے دو ارب تیس کروڑ ریئس کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد کسی ایک ملک یا کمپنی پر انحصار ختم کرنا ہے جبکہ اس منصوبے میں ہواوے اور انویڈیا جیسی عالمی کمپنیاں شامل ہیں۔
برازیل کی حکومت کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خود کفالت اور ترقی کے لیے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برازیل نے دو انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کے سپر کمپیوٹرز کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہے جن کی کل لاگت تقریباً دو ارب تیس کروڑ ریئس یعنی لگ بھگ چار سو چوالیس ملین ڈالر بنتی ہے۔ ان سپر کمپیوٹرز کی تعمیر کا بنیادی مقصد ملکی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دینا اور مستقبل کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونا ہے۔ اس بڑے منصوبے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک سپر کمپیوٹر چینی کمپنی جب کہ دوسرا امریکی کمپنی کی ٹیکنالوجی سے لیس ہوگا۔ برازیلی حکام کے مطابق اس دو طرفہ حکمت عملی کا بنیادی مقصد دنیا کی کسی ایک بڑی کمپنی، مخصوص ٹیکنالوجی یا کسی ایک ملک پر کلی انحصار کو ختم کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ایک سپر کمپیوٹر کی تعمیر چینی ٹیلی کام اور ٹیکنالوجی جائنٹ ہواوے کے اشتراک سے کی جائے گی، جب کہ دوسرے منصوبے کے لیے امریکی چپ ساز اور اے آئی کے میدان میں معروف ترین کمپنی انویڈیا کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ برازیل کی حکومت کا ماننا ہے کہ اس طرح کی متنوع شراکت داری سے ملک میں تکنیکی ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی عالمی معیار کا بنایا جا سکے گا۔ اس تاریخی اقدام سے نہ صرف برازیل کے اندرونی تکنیکی نظام کو تقویت ملے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس کا اثر و رسوخ بڑھے گا۔ ماہرین اس قدم کو برازیل کی ایک متوازن سفارتی اور معاشی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جو مستقبل کی عالمی جنگ میں ٹیکنالوجی کے محاذ پر ملک کو محفوظ رکھے گی۔