World
سدگورو کا نئی نسل کے لیے اہم مشورہ اور فوٹوگرافی کتاب کی رونمائی
معروف روحانی رہنما سدگورو نے اپنی نئی فوٹوگرافی کتاب 'ڈسپیئرنگ فیسز' کی رونمائی کے موقع پر نوجوان نسل کو ادراک اور فطرت سے جڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کو زندگی کو گہرائی سے محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔
معروف روحانی رہنما اور مفکر سدگورو نے حال ہی میں اپنی نئی فوٹوگرافی کتاب 'ڈسپیئرنگ فیسز' (Disappearing Faces) کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔ یہ کتاب نیپال اور تبت کے دور دراز علاقوں میں زندگی کی عکاسی کرتی ہے اور وہاں کے باسیوں کے ان چہروں کو محفوظ بناتی ہے جو قدرت کے ساتھ انتہائی قریب سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس بصری دستاویز کے ذریعے ایک ایسے دور کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں کی وجہ سے ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ کتاب میں شامل تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں کہ کس طرح انسان اور فطرت کا رشتہ صدیوں پرانا اور گہرا ہے۔
کتاب کی رونمائی کے اس پروقار موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سدگورو نے نئی نسل کو ایک منفرد اور فکر انگیز مشورہ دیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر زندگی میں کوئی خاص یا قابل قدر کام کرنے کے لیے موجود نہ ہو تو انسان کو بلاوجہ بھاگ دوڑ کرنے کے بجائے بس خاموشی سے بیٹھ جانا چاہیے۔ ان کا مقصد اس بات کو اجاگر کرنا تھا کہ ہر وقت ذہنی یا جسمانی سرگرمی ضروری نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات خاموشی اور محض موجودگی بھی انسان کو اپنے اندرونی ادراک سے روشناس کرا سکتی ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی توجہ بیرونی دنیا کی بے معنی دوڑ سے ہٹا کر اندرونی ادراک اور گہری سوجھ بوجھ پر مرکوز کریں۔
سدگورو کا کہنا تھا کہ آج کی جدید دنیا میں انسان اپنے اردگرد کی فطرت اور اپنی اصل روح سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور مادیت پرستی کی اس چمک دمک میں لوگ اس سچی اور خالص زندگی کو فراموش کر رہے ہیں جو حسی تجربات اور قدرت کے ساتھ جڑے رہنے سے ملتی ہے۔ نیپال اور تبت کے ان علاقوں کے باسیوں کے چہرے اس بات کی علامت ہیں کہ مادی آسائشوں کے بغیر بھی ایک پرسکون اور بھرپور زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئی نسل کو اپنے حواس کو بیدار کرنا ہوگا تاکہ وہ اس دنیا کو ایک نئے اور حقیقی زاویے سے دیکھ سکیں۔
یہ فوٹوگرافی کتاب نہ صرف فن اور عکاسی کا ایک شاندار نمونہ ہے بلکہ یہ انسانی تہذیب اور ارتقاء کے اس پہلو کو بھی سامنے لاتی ہے جو دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو رہا ہے۔ سدگورو کے اس پیغام اور کتاب کو دنیا بھر میں ان کے پیروکاروں اور ثقافتی حلقوں کی طرف سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات جدید دور کے انسان کو اس کی جڑوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور نوجوانوں کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں۔