Business
ملازمت کا حصول اور موجودہ بھرتی کے نظام کی خرابیاں
موجودہ دور میں ملازمت کے حصول کا عمل نوکری کے متلاشی افراد کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور پیچیدگیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ ٹوڈ ہینڈرکس جیسے تجربہ کار افراد بھی اس فرسودہ اور غیر منصفانہ نظام سے عاجز آ چکے ہیں۔
مئی میں نوکری سے نکالے جانے کا نوٹس ملنے کے بعد، چھیالیس سالہ انجینئر ٹوڈ ہینڈرکس نے اپنی نئی ملازمت کی تلاش شروع کی۔ ایک جمعہ کو، وہ ایک کثیر مرحلہ وار انٹرویو کے عمل کے کوڈنگ راؤنڈ کے لیے زوم پر آن لائن آئے اور کسی کے آنے کا انتظار کرنے لگے۔ اس طرح کے متعدد تجربات نے اب نوکری کے متلاشی افراد کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا موجودہ کارپوریٹ بھرتی کا نظام مکمل طور پر خراب ہو چکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے باوجود، نوکری کے حصول کا عمل انتہائی پیچیدہ، غیر انسانی اور طویل ہوتا جا رہا ہے جس سے امیدواروں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
امیدواروں کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے لامتناہی مراحل، بار بار کے ٹیسٹ اور اسائنمنٹس کے بعد کمپنیوں کی طرف سے کسی قسم کا فیڈ بیک نہ ملنا عام بات بن گئی ہے۔ کئی امیدواروں نے شکایت کی ہے کہ وہ گھنٹوں تیاری کر کے انٹرویو کے لیے حاضر ہوتے ہیں لیکن انٹرویو لینے والے یا تو غائب ہوتے ہیں یا پھر غیر پیشہ ورانہ رویہ اپناتے ہیں۔ اس صورتحال نے پیشہ ور افراد کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈالا ہے، کیونکہ نوکری کی تلاش خود ایک فل ٹائم جاب بن چکی ہے جس میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹومیٹڈ بھرتی کے نظام اور اے آئی کے ضرورت سے زیادہ استعمال نے اس عمل کو مزید بے جان بنا دیا ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے امیدواروں کی انسان دوستی کے بجائے صرف الگورتھم کی بنیاد پر جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے باصلاحیت افراد بھی پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ نوکری کے متلاشی افراد اب سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس نظام میں انسانیت کہاں چلی گئی ہے اور کیا کارپوریٹ دنیا کو اپنے ان طریقوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟
اس بحران سے نمٹنے کے لیے اب مختلف حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بھرتی کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور امیدواروں کے لیے کم از کم باعزت بنایا جائے۔ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ انٹرویو کے عمل کو غیر ضروری طویل کرنے کے بجائے مؤثر بنائیں اور امیدواروں کے وقت اور محنت کا احترام کریں۔ جب تک اس نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، نوکری کے متلاشی افراد اسی طرح ذہنی کوفت اور مایوسی کا شکار رہیں گے۔