World
یوکرین کا دیسی ایکولائزر بم اور عسکری خود کفالت کی جانب قدم
یوکرین نے اپنے ملک میں تیار کردہ گلائیڈ بم کی خریداری شروع کر دی ہے تاکہ روسی افواج کو محفوظ فاصلے سے نشانہ بنایا جا سکے۔ اس نئے دیسی ساختہ ہتھیار سے یوکرین کا امریکہ اور یورپ پر عسکری انحصار کم ہوگا۔
یوکرین نے ایک ایسے دیسی ساختہ گلائیڈ بم کی خریداری کا آغاز کر دیا ہے جو اس کے پائلٹوں کو روسی افواج پر زیادہ محفوظ فاصلے سے حملے کرنے کے قابل بنائے گا۔ اس نئے ہتھیار کا مقصد مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اور یورپ کی جانب سے فراہم کردہ اسلحے پر یوکرین کے روایتی انحصار کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے۔ یوکرین کی دفاعی صنعت کی جانب سے تیار کیا جانے والا یہ بم جدید عسکری ٹیکنالوجی کا شاہکار مانا جا رہا ہے جو جنگ کے میدان میں ملکی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس دیسی ہتھیار کے حصول سے یوکرین کو اپنی عسکری ضروریات پوری کرنے میں بڑی حد تک خودمختاری ملے گی اور وہ بیرونی سپلائی چین میں تاخیر یا رکاوٹ کے اثرات سے بچ سکے گا۔ موجودہ حالات میں جب یوکرین کو مسلسل عسکری سازوسامان کی فراہمی میں چیلنجز کا سامنا ہے، یہ نیا بم ملکی فضائیہ کے لیے ایک گیم چنجر ثابت ہو سکتا ہے۔ پائلٹ اب دشمن کے فضائی دفاعی نظام کی پہنچ سے دور رہتے ہوئے درست نشانے لگا سکیں گے جس سے جنگی طیاروں اور عملے کے نقصان کا خطرہ بھی کم ہوگا۔ یوکرین کی حکومت اور عسکری قیادت اس دیسی منصوبے کو قومی سلامتی اور دفاعی خود کفالت کی طرف ایک انتہائی اہم سنگ میل قرار دے رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بم کے وسیع پیمانے پر استعمال سے محاذِ جنگ پر نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں، جو روسی افواج کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مزید تقویت بخشیں گی۔