LIVE
Loading Breaking News...

کوریائی جنگ کے لاپتہ امریکی فوجی ولس میک نیل کی ٹیکساس میں تدفین

News Image
کوریائی جنگ کے دوران 1950ء میں لاپتہ ہونے والے امریکی آرمی سارجنٹ ولس میک نیل کو تقریباً پچھتر سال بعد پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ٹیکساس میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس طویل عرصے کے بعد ان کی باقیات کی شناخت ہوئی اور ان کے آبائی علاقے میں تدفین عمل میں لائی گئی۔
امریکی آرمی سارجنٹ ولس میک نیل، جو کوریائی جنگ کے دوران 1950ء میں لاپتہ ہو گئے تھے، کو تقریباً پچھتر سال کے طویل انتظار کے بعد اب ایک باقاعدہ اور پروقار فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جب وہ لاپتہ ہوئے تو ان کی عمر صرف بیس سال تھی۔ اس تاریخی اور جذباتی تقریب نے ایک طویل عرصے سے جاری غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کر دیا ہے، جس نے ان کے لواحقین اور فوجی حلقوں کو گہرا سکون پہنچایا ہے۔ ولس میک نیل کی باقیات کی طویل عرصے تک شناخت نہیں ہو سکی تھی، تاہم جدید فرانزک تکنیک اور مسلسل کوششوں کی بدولت آخرکار ان کی حقیقت کا انکشاف ہوا۔ کوریائی جنگ کے دوران امریکہ کے ہزاروں فوجی لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے کئی ایک کی باقیات دہائیوں گزرنے کے بعد بھی آہستہ آہستہ شناخت کی جا رہی ہیں اور ان کے اہل خانہ تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں ان کے عزیز و اقارب، فوجی حکام اور مقامی شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شہید فوجی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے یا جنگ میں لاپتہ ہونے والے کسی بھی فوجی کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا، چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے۔ اس تجدید تدفین کے عمل سے نہ صرف تاریخ کے ایک گمشدہ باب پر سے پردہ اٹھا ہے بلکہ متاثرہ خاندان کو بھی ایک حتمی تسلی مل گئی ہے کہ ان کے پیارے کو باعزت طریقے سے ابدی آرام کی جگہ پر پہنچا دیا گیا ہے۔