LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ادویات سازی: کریڈٹ کا تنازعہ

News Image
بائیو ٹیک کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ادویات پر حقوقِ ملکیت کا انوکھا تنازعہ سامنے آ گیا ہے۔ اس صورتحال نے قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیا ہے کہ اصل کریڈٹ کس کا بنتا ہے۔
جب بائیو ٹیک کمپنی انسیلیکو میڈیسن نے اپنے کمپیوٹر ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے پلمونری فبروسس کے علاج کے لیے ایک انتہائی موثر دوا تجویز کی، تو انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ دعویٰ کیا کہ اس مالیکیول کو ان کے جنریٹیو اے آئی پلیٹ فارم نے دریافت کیا ہے۔ انسیلیکو اس میدان میں آگے آگے ہے اور دیگر کئی کمپنیاں بھی اسی طرح کی ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہیں تاکہ ادویات کی تیاری کے عمل کو تیز اور موثر بنایا جا سکے۔ اس پیش رفت نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جس کا مرکز یہ سوال ہے کہ اس عمل میں اصل کریڈٹ کس کا ہونا چاہیے۔ روایتی طور پر سائنسی تحقیقات اور ادویات کی تیاری کا سارا کریڈٹ انسانی محققین، سائنسدانوں اور لیبارٹریز کو جاتا تھا جنہوں نے سالوں کی محنت کے بعد کسی فارمولے کو دریافت کیا۔ لیکن اب جب کہ الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز خود بخود نئے مالیکیولز اور فارمولے تجویز کر رہے ہیں، تو یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ آیا اس کامیابی کا سہرا اے آئی سافٹ ویئر بنانے والوں کے سر بندھا ہے، یا ان سائنسدانوں کے جنہوں نے اس ٹیکنالوجی کو تربیت دی، یا پھر اس کمپنی کے پاس اس کے جملہ حقوق ہونے چاہئیں۔ اس طرح کے قانونی اور اخلاقی مباحث نے نہ صرف پیٹنٹ کے قوانین کو چیلنج کیا ہے بلکہ مستقبل میں ادویات کی صنعت کے کام کرنے کے انداز کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سخت ضابطے اور قوانین بنائے جائیں گے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ جب مصنوعی ذہانت کوئی دوا ڈیزائن کرتی ہے، تو اس کی ملکیت اور کریڈٹ کا اصل حقدار کون ہوگا۔