LIVE
Loading Breaking News...

ناکام توانائی کا منصوبہ جو دنیا کی بڑی ضرورت حل کر سکتا ہے

News Image
ورجینیا کے پہاڑوں میں 400 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ ایک ناکام اور متروک منصوبہ اب دنیا کی سب سے بڑی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نئی امید بن کر ابھرا ہے۔ ماہرین اس طویل مدتی توانائی کے چیلنج کو حل کرنے کے لیے اس پرانے تجربے سے بھرپور مدد حاصل کر رہے ہیں۔
امریکہ کی ریاست ورجینیا کے سرسبز پہاڑوں میں 120 فٹ بلند ایک دیوہیکل مشین کسی سائنس فکشن فلم کا منظر پیش کرتی ہے، جسے کبھی ناکام سمجھ کر بالکل فراموش کر دیا گیا تھا۔ یہ چار سو ملین ڈالر کا ایک ایسا تجرباتی منصوبہ تھا جو بدلتی ہوئی توانائی کی معیشت کے دباؤ تلے دم توڑ گیا اور اس کی افادیت کو اس وقت کے حالات کے تناظر میں مسترد کر دیا گیا۔ لیکن وقت کا پہیہ گھوما اور آج یہی متروک اور ناکام پروجیکٹ دنیا کی سب سے بڑی توانائی کی ضرورت کو حل کرنے کی ایک نئی کنجی بنتا دکھائی دے رہا ہے، جس پر ماہرین کی خصوصی توجہ مرکوز ہے۔ توانائی کے موجودہ عالمی منظرنامے میں جب روایتی ایندھن کے ذرائع پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور صاف ستھری توانائی کے حصول کے لیے نت نئے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں، تو اس پرانے منصوبے کی راکھ سے نئی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔ انجینئرز اور سائنسدان اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح اس ناکام کوشش کے دوران حاصل ہونے والے تجربات اور بنیادی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال کر موجودہ انرجی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کی بحالی اور اس سے وابستہ نئی تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں کوئی بھی ناکامی حتمی نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات ماضی کی غلطیاں یا ادھورے خواب مستقبل کے سب سے بڑے حل فراہم کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں توانائی کے بڑھتے ہوئے تقاضوں اور ماحول دوست ذرائع کی تلاش کے اس دور میں، اس پرانے ورجینیا پروجیکٹ کی طرف واپسی نے صنعت سے وابستہ ماہرین کو ایک نئی سمت دکھائی ہے۔ اگر اس پروجیکٹ کو کامیابی کے ساتھ جدید خطوط پر استوار کر لیا گیا، تو یہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں بجلی کی فراہمی کے دیرینہ مسائل کو بھی مستقل طور پر حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔