Technology
خلا میں شیشے نصب کرنے کا منصوبہ، رات کے آسمان کے لیے خطرہ
ایک امریکی کمپنی خلاء میں سورج کی روشنی کو زمین پر بھیٹنے کے لیے خصوصی سیٹلائٹ نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نئی سائنسی تحقیق کے مطابق اس منصوبے سے رات کا قدرتی آسمان شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
خلاء سے زمین پر ضرورت کے وقت سورج کی روشنی بھیجنے کا ارادہ رکھنے والی ایک کمپنی کا منصوبہ رات کے آسمان کو شدید خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔ نئی سائنسی تحقیق کے مطابق یہ اقدام توقع سے کہیں زیادہ لوگوں کے لیے رات کے آسمان کی قدرتی تاریکی کو متاثر کرے گا اور فلکیاتی مشاہدات میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ امریکی کمپنی 'ریفلیکٹ آربیٹل' رواں سال کے آخر میں اس سلسلے میں ایک آزمائشی سیٹلائٹ خلا میں روانہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کا عملی تجربہ کیا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد شمسی توانائی کے حصول کو بہتر بنانا اور زمین پر مخصوص مقامات پر روشنی فراہم کرنا ہے۔ تاہم اس منصوبے کے سامنے آنے کے بعد ماہرین فلکیات اور سائنسدانوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کے مدار میں اس طرح کے چمکدار شیشوں یا ریفلیکٹرز کی تنصیب سے رات کے وقت آسمان پر روشنی کی آلودگی میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ مصنوعی روشنی نہ صرف عام شہریوں کے لیے رات کے آسمان کا نظارہ دھندلا کر دے گی بلکہ کائنات پر تحقیق کرنے والی رصد گاہوں کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کرے گی۔ فلکیاتی اداروں اور سائنسدانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس قسم کے تجارتی اور خلائی منصوبوں کو شروع کرنے سے پہلے ان کے ماحولیاتی اور فلکیاتی اثرات کا گہرائی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگرچہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگی، لیکن اس کے ممکنہ منفی اثرات نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔