LIVE
Loading Breaking News...

فیڈلٹی ہائی ڈیویڈنڈ ای ٹی ایف اور ٹیکنالوجی سیکٹر کی سرمایہ کاری

News Image
فیڈلٹی ہائی ڈیویڈنڈ ای ٹی ایف اپنے نام کے برعکس لارج کیپ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری رکھتا ہے۔ یہ فنڈ ان سرمایہ کاروں کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے جو منافع کے ساتھ ساتھ ٹیک سیکٹر کی ترقی سے بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
فنانشل مارکیٹس میں اکثر مصنوعات کے نام ان کے اصل اندرونی پورٹ فولیو سے مختلف ہوتے ہیں، اور ایسا ہی ایک دلچسپ معاملہ فیڈلٹی ہائی ڈیویڈنڈ ای ٹی ایف (NYSEARCA:FDVV) کا ہے۔ بظاہر اس فنڈ کا نام بلند منافع یا ڈیویڈنڈ کی عکاسی کرتا ہے، لیکن جب اس کے اندرونی اثاثہ جات کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو صورتحال کچھ اور ہی نکلتی ہے۔ اس ای ٹی ایف کا تقریباً اٹھائیس فیصد حصہ دنیا کی بڑی اور معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں میں لگایا گیا ہے، جو عام طور پر روایتی ہائی ڈیویڈنڈ فنڈز کے مقابلے میں ایک غیر روایتی امتزاج سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ فنڈ واقعی آمدنی کے حصول کے لیے ہے یا پھر یہ ترقیاتی صلاحیت رکھنے والے سیکٹرز کا احاطہ کرتا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فنڈ کی یہ حکمت عملی ان سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ موزوں ہے جو صرف ایک ہی شعبے تک محدود رہنے کے بجائے اپنے سرمائے کو متنوع بنانا چاہتے ہیں۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری ہونے کی وجہ سے اس فنڈ کو مارکیٹ میں ہونے والی اتار چڑھاؤ سے ایک مخصوص تحفظ ملتا ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ طویل مدتی سرمائے کی افزائش کے لیے بھی راہموار کرتا ہے۔ دوسری طرف، جو سرمایہ کار مکمل طور پر ریگولر اور مستحکم نقدی کے حصول کے لیے صرف روایتی منافع بخش حصص کے متلاشی ہیں، انہیں اس فنڈ میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس کے تکنیکی پہلوؤں کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فیڈلٹی کا یہ فنڈ انفرادی سرمایہ کاروں کو ٹیکنالوجی سیکٹر میں بالواسطہ شرکت کا موقع فراہم کرتا ہے جو عام طور پر کم ڈیویڈنڈ دیتے ہیں لیکن مارکیٹ میں سب سے آگے رہتے ہیں۔ آخر کار، یہ فیصلہ ہر سرمایہ کار کی اپنی ذاتی مالیاتی ترجیحات، خط مول لینے کی صلاحیت اور مستقبل کے اہداف پر منحصر کرتا ہے کہ آیا وہ اس متوازن لیکن دلچسپ فنڈ کو اپنے پورٹ فولیو کا حصہ بنانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے سے پہلے مصدقہ مالیاتی مشیر سے رہنمائی ضرور حاصل کی جائے۔