LIVE
Loading Breaking News...

برازیل میں اے آئی سپر کمپیوٹرز کا آغاز، چین اور امریکہ کے ساتھ شراکت داری

News Image
برازیل کی حکومت نے مصنوعی ذہانت کے سپر کمپیوٹرز کے لیے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے جس میں چینی اور امریکی دونوں فرمز کو شراکت دار بنایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں تکنیکی ترقی کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر مسابقت کو بڑھانا ہے۔
برازیل کی حکومت نے ملک میں مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بڑے سپر کمپیوٹر منصوبے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اہم اقدام کے تحت برازیل نے اپنے تکنیکی اور سائنسی منصوبوں کو چینی اور امریکی کمپنیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اسٹریٹجک فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی ایک ملک پر انحصار کم سے کم رکھا جا سکے اور بہترین عالمی ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا سکے۔ اس جامع منصوبے کے کل سرمائے کا نصف سے زائد حصہ یعنی تقریباً 1.3 ارب ریئز ریو ڈی جنیرو میں سپر کمپیوٹر انفراسٹرکچر کے ایک بڑے پروجیکٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کو چین کی نامور اور معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں ہواوی ٹیکنالوجیز (Huawei Technologies) اور آئی فلائی ٹیک (iFlytek) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ترقی دی جا رہی ہے۔ صدر لوئس انادسیو لولا دا سلوا کی حکومت کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی شراکت داریاں ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو پٹری پر لانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوں گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد برازیل میں سائنسی تحقیق، ڈیٹا پروسیسنگ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق کے مواقع کو وسعت دینا ہے۔ اس سپر کمپیوٹر کے قیام سے نہ صرف تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو جدید ترین کمپیوٹنگ پاور تک رسائی حاصل ہوگی بلکہ ملک کی صنعتی پیداوار اور ڈیجیٹل خدمات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ برازیل کی جانب سے چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ توازن قائم کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کرنا بین الاقوامی سطح پر بھی ایک اہم سفارتی اور معاشی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس انفراسٹرکچر کے مکمل ہونے سے برازیل لاطینی امریکہ میں مصنوعی ذہانت کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھرے گا، جو خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی راہ ہموار کرے گا۔