LIVE
Loading Breaking News...

جی ٹی اے VI لیکس: ٹیک ٹو نے مائیکروسافٹ اور ڈسکارڈ سے رجوع کرلیا

News Image
مقبول ترین ویڈیو گیم گرینڈ تھیف آٹو VI کے لیکس کو روکنے اور ذمہ داران کا سراغ لگانے کے لیے گیم کے پبلشر ٹیک ٹو نے مائیکروسافٹ اور ڈسکارڈ کو قانونی سبپینا جاری کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد گیم کے نقشے اور گیم پلے سے متعلق حساس معلومات کو مزید لیک ہونے سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں شدت سے انتظار کی جانے والی مقبول ترین ویڈیو گیم 'گرینڈ تھیف آٹو VI' (Grand Theft Auto VI) کے پبلشر نے گیم سے جڑے غیر قانونی لیکس کو بے نقاب کرنے کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گیم کی ڈویلپر کمپنی راک سٹار گیمز اور اس کی پیرنٹ کمپنی ٹیک ٹو انٹرایکٹو نے ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں مائیکروسافٹ اور کمیونیکیشن پلیٹ فارم ڈسکارڈ کو باضابطہ طور پر سبپینا (Subpoenas) جاری کیے ہیں۔ اس قانونی اقدام کا بنیادی مقصد ان افراد کی شناخت کرنا ہے جو مبینہ طور پر گیم کی حساس معلومات، نقشوں اور گیم پلے کی ویڈیوز کو منظر عام پر لانے کے ذمہ دار ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں جی ٹی اے VI سے متعلق مختلف قسم کی لیک ہونے والی معلومات نے گیمنگ کی دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ان لیکس میں گیم کا ممکنہ نقشہ اور ابتدائی گیم پلے کی جھلکیاں شامل ہیں، جنہیں راک سٹار گیمز کی جانب سے انتہائی خفیہ رکھا جا رہا تھا۔ کمپنی چاہتی ہے کہ اس کے مداحوں کو گیم کا حتمی تجربہ بالکل نیا اور حیرت انگیز ملے، لیکن اس طرح کے مسلسل لیکس کمپنی کی مارکیٹنگ اور لانچ کی حکمت عملی کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ٹیک ٹو کی جانب سے جاری کردہ ان سبپیناز کے ذریعے اب مائیکروسافٹ اور ڈسکارڈ پر لازم ہوگا کہ وہ ایسے اکاؤنٹس اور صارفین سے متعلقہ معلومات فراہم کریں جنہوں نے مبینہ طور پر چوری شدہ یا رازدارانہ مواد کو ان پلیٹ فارمز پر شیئر کیا۔ گیمنگ انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ پبلشرز اپنی قیمتی فکری املاک (Intellectual Property) کی حفاظت کے لیے کس حد تک جانے کو تیار ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد گیمنگ کمیونٹی میں ایک بار پھر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ قانونی دباؤ لیکس کے اس سلسلے کو روکنے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔ راک سٹار گیمز کے مداح اب باضابطہ طور پر گیم کے اجرا کا انتظار کر رہے ہیں، جب کہ کمپنی کی جانب سے اس بات کی مسلسل تردید کی جاتی رہی ہے کہ کوئی بھی غیر مصدقہ مواد حتمی گیم کی عکاسی کرتا ہے۔