LIVE
Loading Breaking News...

بنگلہ دیش اور آسٹریلیا دوسرا ٹیسٹ پہلے دن اٹھارہ وکٹیں گریں

News Image
آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے ہی روز کل اٹھارہ وکٹیں گر گئیں۔ بائیں ہاتھ کے بالرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کا پہلا دن انتہائی ڈرامائی اور ریکارڈ ساز رہا جہاں محض ایک ہی دن کے کھیل میں دونوں ٹیموں کے کل اٹھارہ کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔ میچ کے آغاز سے ہی گیند بازوں کا راج رہا اور بلے بازوں کے لیے وکٹ پر ٹکنا انتہائی دشوار ثابت ہوا۔ بائیں ہاتھ کے گیند بازوں نے اس وکٹ کی بہتات میں سب سے اہم کردار ادا کیا اور اپنی تباہ کن گیند بازی سے بنگلہ دیشی اور آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو ہلا کر رکھ دیا۔ شائقین کرکٹ کے لیے یہ ایک حیرت انگیز دن تھا جہاں ہر سیشن میں وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ دن کے اختتام پر آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کے خلاف ایک سو ایک رنز کی اہم برتری حاصل کر لی ہے۔ پہلی اننگز میں بنگلہ دیشی ٹیم آسٹریلوی پیس اٹیک کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور پوری ٹیم جلد ہی آؤٹ ہو گئی۔ آسٹریلوی گیند بازوں نے نپی تلی لائن اور لینتھ کے ساتھ گیند بازی کی جس کا بیٹرز کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے بعد جب آسٹریلیا کی ٹیم بیٹنگ کے لیے اتری تو انھیں بھی ابتدائی اوورز میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی بھی ابتدائی وکٹیں تیزی سے گریں، تاہم ٹیم نے برتری حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ کرکٹ کے ماہرین کے مطابق ٹیسٹ میچ کے پہلے ہی روز اتنی بڑی تعداد میں وکٹوں کا گرنا پچ کے مزاج اور گیند بازوں کی برتری کو واضح کرتا ہے۔ بائیں ہاتھ کے گیند بازوں نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مخالف بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ دونوں ٹیموں کے کوچز اور کپتان اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس مشکل پچ پر کس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترا جائے کیونکہ میچ اب بھی کسی بھی طرف مڑ سکتا ہے۔ میچ کے بقیہ دنوں کا کھیل انتہائی دلچسپ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ دونوں ٹیمیں اس ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ آسٹریلیا کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی برتری کو مزید وسعت دے کر بنگلہ دیش کے لیے ہدف کو مشکل بنائے، جبکہ بنگلہ دیشی ٹیم دوسری اننگز میں کم بیک کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ شائقین کرکٹ اس سنسنی خیز مقابلے کے اگلے حصوں کے منتظر ہیں جہاں ہر سیشن میں کھیل کا رخ بدلنے کا امکان موجود ہے۔