Pakistan
راولپنڈی میں خاتون کا قتل، شوہر اور ملازم گرفتار
راولپنڈی میں پولیس نے ایک گھر سے خاتون کی بندھی ہوئی لاش برآمد ہونے کے بعد مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کر لیا ہے۔ مقتولہ کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ شوہر پہلے بھی تشدد کرتا رہا ہے جبکہ مشہور اداکارہ ماہرہ خان نے بھی خاندان کے انصاف کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔
راولپنڈی میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں پولیس نے نامعلوم سمت فرار ہونے کی کوشش کرنے والے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب ایک گھر سے خاتون کی ہاتھ پاؤں بندھی ہوئی لاش برآمد ہوئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فرانزک ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور تمام شواہد اکٹھے کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران پولیس نے شکوک و شبہات کی بنیاد پر مقتولہ کے شوہر اور ایک ملازم کو دبوچ لیا جن سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ دوسری جانب مقتولہ کے لواحقین اور والد نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شوہر پہلے بھی مقتولہ حنا پر بہیمانہ تشدد کرتا رہا ہے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ یہ محض حادثہ یا خودکشی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا قتل ہے جس میں گھر کے دیگر افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ ایف آئی آر میں سسر کو بھی نامزد کیا گیا ہے تاہم تادم تحریر ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے جس پر لواحقین نے پولیس سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی انصاف کی فراہمی کے لیے مہر و محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے بھی اس سلسلے میں خاندان کا ایک خط شیئر کیا ہے جس میں انصاف کے حصول کے لیے پُرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ ماہرہ خان اور دیگر نامور شخصیات کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور عوامی حلقوں میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ راولپنڈی پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس اندوہناک قتل کی تمام زاویوں سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ تمام شواہد کو سائنسی بنیادوں پر پرکھا جا رہا ہے اور کسی بھی با اثر شخص کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ گرفتار ملزمان سے مزید انکشافات متوقع ہیں جبکہ مقتولہ کے سسر کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کیس نے ایک بار پھر معاشرے میں گھریلو تشدد اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور ہر سطح پر انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔