Business
بٹ کوئن اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، امریکی ٹریژری کے اقدامات کے اثرات
امریکی ٹریژری کے اقدامات پر سرمایہ کاروں کے غور کے بعد دنیا کی معروف کریپٹو کرنسی بٹ کوئن کی قیمت میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس مثبت معاشی لہر کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر ہلچل دیکھنے میں آئی ہے جہاں امریکی ٹریژری کے حالیہ اقدامات اور پالیسیوں کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اس معاشی پیش رفت کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوئن کی قیمت میں نمایاں اچھال ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ روایتی اسٹاک مارکیٹس نے بھی زبردست واپسی کی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، تاجر اور سرمایہ کار اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ امریکی وزارت خزانہ کے فیصلے آنے والے دنوں میں عالمی مالیاتی نظام پر کیا اثرات مرتب کریں گے۔
بٹ کوئن کی قیمت میں ہونے والے اس حالیہ اضافے کو کریپٹو کرنسی مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری تھا، تاہم ٹریژری کی جانب سے اشاروں کے بعد خریدار ایک بار پھر متحرک ہو گئے ہیں۔ ڈیجیٹل اثاثوں میں تجارت کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا یہ رخ ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار اب طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پراعتماد نظر آ رہے ہیں اور وہ نئی پالیسیوں کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب، عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی اور یورپی حصص بازاروں میں خرید و فروخت کا رجحان مثبت رہا ہے جس سے کاروباری سرگرمیوں کو تقویت ملی ہے۔ ٹریڈرز کا ماننا ہے کہ اگر امریکی معاشی اشاریے اسی طرح مستحکم رہے تو آنے والے ہفتوں میں حصص بازاروں اور کریپٹو کرنسی دونوں شعبوں میں مزید بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم، معاشی تجزیہ کاروں نے احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں اس قسم کے فوری ردعمل کے بعد عالمی حالات بالخصوص شرح سود کے فیصلے بڑی اہمیت کے حامل ہوں گے۔