Business
بولیویا کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اور کرپٹو کرنسی کا عروج
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بولیویا کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کے مالیاتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس دوران ملک کے اندر ڈیجیٹل فنانس اور کرپٹو کرنسی کے استعمال میں حیرت انگیز طور پر پانچ سو تیس فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے بولیویا کے ساتھ ایک اہم مالیاتی معاہدہ طے پا لیا ہے جس کی مالیت تقریبا 2.8 ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد ملک میں معاشی استحکام پیدا کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دینا اور مالیاتی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ بولیویا کی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کو معاشی ماہرین کی طرف سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ملک طویل عرصے سے معاشی اتار چڑھاؤ اور کرنسی کے عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے ملکی معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
دوسری جانب، اسی عرصے کے دوران بولیویا میں کرپٹو کرنسی کے لین دین اور استعمال میں حیرت انگیز طور پر 530 فیصد کا ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی کرنسی کی قدر میں کمی اور افراط زر کے دباؤ کے پیش نظر عوام اور کاروباری طبقے نے ڈیجیٹل اثاثوں کی طرف تیزی سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔ کرپٹو کرنسی کا یہ پھیلاؤ اس بات کا غماز ہے کہ ڈیجیٹل فنانس اب دنیا بھر کے ساتھ ساتھ لاطینی امریکہ میں بھی عام آدمی کی مالی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے، جس سے حکومتیں بھی چشم پوشی نہیں کر سکتیں۔
حکومت اور مالیاتی اداروں کے لیے یہ صورتحال ایک دو رخی حکمت عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر روایتی معیشت کو سنبھالا دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ڈیجیٹل فنانس کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی مدنظر رکھنا پڑ رہا ہے۔ کرپٹو ٹرانزیکشنز میں اس قدر شدید اضافے نے ریگولیٹرز کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس نئے مالیاتی کلچر کو کس طرح ضابطے کے اندر لایا جائے تاکہ معاشی شفافیت بھی برقرار رہے اور نوآبادیاتی یا روایتی نظام پر انحصار بھی کم ہو۔
آئندہ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا بولیویا کی حکومت آئی ایم ایف کے اس بڑے پیکیج اور کرپٹو مارکیٹ کے اس دھماکہ خیز اضافے کو باہم مربوط کر کے معیشت کو مستقل بنیادوں پر مستحکم کر پاتی ہے یا نہیں۔ معاشی تجزیہ کار اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے ترقی پذیر ممالک میں ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کا ایک بڑا سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔