World
لوئیس ٹرام حادثات: مسافروں کی حفاظت کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا مطالبہ
ریلوے حادثات کی تحقیقاتی ایجنسی نے تمام لوئیس ٹراموں میں جدید اینٹی ڈریگ ٹیکنالوجی نصب کرنے کی سفارش کی ہے۔ یہ مطالبہ پلیٹ فارمز پر مسافروں کے پھنسنے اور گھسیٹے جانے کے پے در پے خطرناک واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔
ریلوے حادثات کی تحقیقات کرنے والے اداروں نے تمام لوئیس (Luas) ٹراموں میں فوری طور پر جدید اینٹی ڈریگ ٹیکنالوجی نصب کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ یہ سفارش حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے ان خطرناک اور تشویشناک واقعات کے بعد کی گئی ہے جن میں مسافر یا ان کا سامان ٹرام کے دروازوں میں پھنس جانے کے بعد پلیٹ فارم پر گھسیٹے جانے کا شکار ہوئے۔ ان حادثات نے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں مسافروں کی سلامتی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، تحقیقاتی حکام نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے حادثات انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔ کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں مسافر اترتے یا چڑھتے ہوئے دروازوں کی زد میں آ گئے اور ٹرام کے چلنے سے وہ پلیٹ فارم پر گھسٹتے چلے گئے۔ اگرچہ کچھ واقعات میں خوش قسمتی سے بڑے جانی نقصان سے بچت ہو گئی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے غفلت کے واقعات کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا اور فوری طور پر تکنیکی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ماہرین نے تجویز دی ہے کہ ٹراموں میں ایسے سینسرز اور خودکار سسٹمز نصب کیے جائیں جو دروازے بند ہوتے وقت کسی بھی رکاوٹ کو فوری طور پر محسوس کر سکیں اور دروازہ کھلنے کو یقینی بنائیں۔ اینٹی ڈریگ ٹیکنالوجی کے نفاذ سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ جب تک مسافر اور ان کا سامان مکمل طور پر محفوظ نہ ہو، ٹرام حرکت میں نہ آ سکے۔ حکام امید کر رہے ہیں کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے آنے سے مستقبل میں ایسے دردناک حادثات کی روک تھام میں بڑی مدد ملے گی اور مسافروں کا سفر زیادہ محفوظ ہو جائے گا۔