World
سیاسی تنازعات اور کمیونسٹ سازش کا نظریہ مغرب میں
مغربی دنیا بالخصوص دائیں بازو کے سیاسی حلقوں میں ثقافتی مارکسی ازم یا کمیونسٹ سازش کا نظریہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ماہرین اور سیاسی محققین اس رجحان کے خطرات اور اس کے پس منظر پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
مغربی دنیا کی سیاست میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایک انوکھا اور خطرناک رجحان تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے جسے سیاسی محققین 'کمیونسٹ سازش' یا 'ثقافتی مارکسی ازم' کا نام دیتے ہیں۔ اس نظریے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ معاشرتی اقدار، روایات اور تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے لیے ایک گہری بین الاقوامی سازش رچی جا رہی ہے، جس کے پیچھے مبینہ طور پر بائیں بازو کی سوچ اور مارکسی نظریات کارفرما ہیں۔ سنہ دو ہزار تین میں سدرن پاورٹی لاء سینٹر نے خبردار کیا تھا کہ دائیں بازو کے حلقوں میں یہ عجیب و غریب بیانیہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور اس وقت کے معروف سیاسی مبصرین جیسے کہ پیٹ بیکانن نے بھی اس کے اثرات کا کھل کر ذکر کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نظریہ صرف حاشیہ بردار گروہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مرکزی دھارے کی سیاست اور میڈیا میں بھی سرایت کر چکا ہے، جہاں اسے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے تحت سماجی تبدیلیوں، حقوق نسواں، اقلیتوں کے حقوق اور لبرل پالیسیوں کو ایک منظم سازش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر روایتی معاشرے کو کمزور کرنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نظریات حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں اور ان کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے نظریات معاشرے میں عدم برداشت کو بڑھاوا دیتے ہیں اور سنجیدہ پالیسی مباحثوں کا راستہ روکتے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اور سیاسی سائنسدان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس خطرناک بیانیے کا سدباب کرنے کے لیے حقائق پر مبنی مباحثوں کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو محفوظ بنایا جا سکے، بصورت دیگر یہ سازشی نظریات معاشرے کو مزید پولرائزیشن کی طرف دھکیلتے رہیں گے۔