World
ایران پر امریکی پابندیاں ناکام، محکمہ خزانہ کا اعتراف
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی سخت پابندیوں کے مؤثر ہونے پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کو خطے میں امریکی فوجی اور معاشی دباؤ کی محدود تاثیر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی اور سخت ترین پابندیوں کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ یہ اقدامات متوقع نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق، امریکی معاشی مداخلت اور پابندیوں کا یہ سلسلہ تہران کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہو رہا، جس سے خطے میں امریکی حکمت عملی کی خامیوں کا پول کھلتا ہے۔ اقتصادی اور عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے دباؤ بڑھانے کے باوجود ایران کے خلاف یہ پابندیاں محض علامتی حد تک اثرانداز ہو رہی ہیں۔ اس تناظر میں امریکی انتظامیہ کی اہلیت اور پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ اس سے قبل بھی اس قسم کے اقدامات خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عسکری محاذ پر بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یمن کی تحریک انصار اللہ کی طرف سے سعودی عرب کے اندر ڈرون حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خطے میں روایتی دفاعی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حملوں نے خلیجی ممالک کی سلامتی اور امریکی فوجی چھتری کی تاثیر کو بھی زیرِ بحث لے آيا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی عسکری حرکیات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ صرف معاشی پابندیوں کے ذریعے مطلوبہ اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنا اب ممکن نظر نہیں آتا، اور زمینی حقائق اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔