LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کی کمشنر اور آئی جی پی کی شاہانہ انداز پر سرزنش

News Image
وزیر اعظم نے چودہ اگست کی پریڈ کے دوران سرکاری افسران کی جانب سے بگھی کی سواری اور شاہانہ انداز اپنانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام کو اس قسم کی فضول خرچی اور نمود و نمائش سے گریز کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان نے حالیہ یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران سرکاری حکام کی جانب سے اختیار کردہ شاہانہ انداز اور نمود و نمائش پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے متعلقہ کمشنر اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کو طلب کر کے ان کے طرزِ عمل پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ ناخوشگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب چودہ اگست کی مرکزی پریڈ کے موقع پر اعلیٰ سرکاری افسران نے شاہانہ روایت کے طور پر بگھی کی سواری کی، جس پر وزیر اعظم نے سخت نوٹس لیا۔ وزیر اعظم کا مؤقف تھا کہ ایسے وقت میں جب ملک کو شدید اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے اور عام عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، سرکاری افسران کی جانب سے اس قسم کی شاہ خرچی اور شاہانہ مظاہرے کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری عہدیداروں کو عوامی خدمت کے جذبے کے تحت سادگی اپنانی چاہیے نہ کہ فرنگی دور کی روایات کو زندہ کرتے ہوئے نمود و نمائش کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس اقدام کو سراہا گیا ہے جبکہ بیوروکریسی میں اس اچانک سرزنش کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سخت رویے سے سرکاری افسران کو ایک واضح پیغام گیا ہے کہ وہ اپنے اختیارات اور پروٹوکول کے معاملے میں سادگی اور انکساری کا مظاہرہ کریں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام محکموں کے سربراہان کو قومی خزانے کی پائی پائی کا حساب رکھنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری تقریبات یا شاہانہ پروٹوکول سے گریز کرنا چاہیے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس واقعے کے بعد انتظامی امور میں مزید بہتری آئے گی اور سرکاری افسران عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے۔