World
امریکہ کے ایران پر شدید حملے، مشرق وسطیٰ میں تنازعہ مزید شدت اختیار کرگیا
امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ اس کشیدگی میں اضافے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ کار مزید وسیع ہو گیا ہے اور خطے کے مختلف ممالک بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجیوں پر ہونے والی حملے کی ایک تازہ کوشش کے بعد ایران کے خلاف انتہائی شدید نوعیت کے فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تازہ کارروائیاں اس وقت شروع کی گئیں جب امریکی تنصیبات اور فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس پر امریکی عسکری قیادت نے فوری اور سخت ردعمل ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کشیدگی کے بعد خطے میں پہلے سے موجود تنازعہ مزید خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اور اتحادی کارروائیوں کے جواب میں کویت اور اردن کے حصوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ دوسری جانب اردنی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی میزائل حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ جنگ کا یہ دائرہ اب مصر کی بندرگاہوں اور خطے کے دیگر اہم حصوں تک پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جس سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فریقین کی جانب سے حملوں میں تیزی آنے کے بعد سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ دنیا بھر کے رہنماؤں نے خطے میں فوری طور پر جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید جانی نقصان اور عالمی معیشت کو تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم فی الوقت دونوں جانب سے جنگی جنون میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے۔