LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں کارپوریٹ اے آئی قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم اور سرمایہ کاروں کا ردعمل

News Image
امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے کارپوریٹ قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس نے سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھا دی ہے۔ فنڈ مینیجرز اب بڑے ٹیک اداروں کے بانڈز پر زیادہ منافع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
امریکہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دوڑ نے کارپوریٹ سیکٹر کے مالیاتی ڈھانچے پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپینوں کی جانب سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے قرضوں کے حصول میں تیزی آ گئی ہے، جس نے اب سرمایہ کاروں کی برداشت کا امتحان لینا شروع کر دیا ہے۔ مارکیٹ میں جاری ہونے والے نئے بانڈز اور قرض کے طوفان کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تھکن کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اگرچہ فنڈ مینیجرز اب بھی ایمیزون اور گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ جیسی مستحکم اور بڑی کمپنیوں کی کریڈٹ کوالٹی پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم وہ مسلسل بڑھتی ہوئی قرضوں کی سپلائی کے پیش نظر اب محتاط ہو چکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی رسد کے تناسب سے سرمایہ کار اب ان کارپوریٹ بانڈز پر زیادہ منافع یعنی ییلڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ کے خطرات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اس صورتحال نے مالیاتی منڈیوں میں اس تشویش کو جنم دیا ہے کہ کیا مارکیٹ کسی ایسے موڑ کے قریب پہنچ رہی ہے جہاں مزید قرضوں کا بوجھ سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑی کمپنیوں کے پاس وسائل موجود ہیں، لیکن مسلسل اور بے تحاشا قرضوں کا اجرا مستقبل میں مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جس پر اب وال اسٹریٹ کے ماہرین بھی غور کر رہے ہیں۔