LIVE
Loading Breaking News...

کوانٹم ریڈی نیس اور کریپٹو گرافک انوینٹری کی اہمیت

News Image
مستقبل کے کوانٹم حملوں سے بچاؤ کے لیے تنظیموں کو سب سے پہلے اپنی تمام ڈیجیٹل اثاثہ جات اور خفیہ کاری کی فہرست بنانا ہوگی۔ مائیگریشن کے عمل سے پہلے الگورتھمز اور سرٹیفکیٹس کا مکمل ریکارڈ ہی اس ڈیجیٹل تبدیلی کی بنیاد ہے۔
آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے تکنیکی دور میں کوانٹم کمپیوٹنگ کی آمد کے ساتھ ہی روایتی سائبر سکیورٹی کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز اتنی زیادہ پروسیسنگ پاور رکھتے ہیں کہ وہ موجودہ دور کے بیشتر انکرپشن الگورتھمز کو باآسانی توڑ سکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر ماہرینِ معاشیات اور ٹیکنالوجی ادارے 'پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی' یا پی کیو سی کی طرف منتقلی کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کٹھن اور پیچیدہ منتقلی کے عمل کا سب سے پہلا اور بنیادی قدم 'کریپٹو گرافک انوینٹری' کی تیاری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تنظیموں اور ڈیویلپرز کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ ان کے سسٹمز میں اس وقت کون سا ڈیٹا کس نوعیت کی خفیہ کاری یعنی انکرپشن کے تحت محفوظ ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ تمام الگورتھمز، خفیہ چابیاں، ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس، لائبریریوں اور بنیادی ڈھانچے کا مکمل نقشہ تیار کرنا ہوتا ہے۔ جب تک آئی ٹی ٹیموں کو اپنی تمام تھرڈ پارٹی ڈیپینڈینسیز اور ڈیجیٹل اثاثوں کا واضح اور شفاف علم نہیں ہوگا، تب تک وہ کوانٹم دور کے لیے محفوظ پروٹوکولز کو نافذ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل صرف ایک بار کا کام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہونا چاہیے۔ جیسا کہ کاروباری ادارے روزانہ کی بنیاد پر نئے سافٹ ویئر سسٹمز اور کلاؤڈ سروسز کو اپناتے ہیں، ان کی کریپٹو گرافک انوینٹری کو بھی اسی تناسب سے اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی ادارے کے پاس اپنے اثاثوں کا جامع ریکارڈ موجود نہیں ہے، تو کوانٹم مائیگریشن کے دوران سکیورٹی کے سنگین نوعیت کے سوراخ اور کمزوریاں پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ نتیجتاً، جو کمپنیاں وقت رہتے اس ابتدائی قدم کو سنجیدگی سے لیں گی اور اپنے سسٹمز کی مکمل مرئیت یا وزیبلٹی حاصل کریں گی، وہی مستقبل میں کوانٹم حملوں کے خلاف ایک مؤثر دفاعی دیوار کھڑی کر سکیں گی۔ حکومتوں اور کارپوریٹ سیکٹر کو بھی چاہیے کہ وہ پی کیو سی کی حکمت عملی وضع کرتے وقت سب سے پہلے مکمل کریپٹو گرافک انوینٹری کی تیاری کو اپنی اولین ترجیح بنائیں تاکہ کسی بھی ناگہانی سکیورٹی بحران سے بچا جا سکے۔