LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی امریکہ کو وارننگ، دفاعی سے جارحانہ عسکری حکمت عملی کا اعلان

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں تہران نے اپنی عسکری حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر پیشگی حملے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
تہران: مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگی بادل منڈلانے لگے ہیں کیونکہ ایران نے اپنی عسکری حکمت عملی میں دفاعی سے جارحانہ رخ اختیار کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور تفتیں بڑھائے جانے کے بعد ایرانی عسکری قیادت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اب محض دفاعی پوزیشن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے اپنی فوجی حکمت عملی کو 'دفاعی سے حملے کی طرف' تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش خطرات کے پیش نظر زمینی کارروائیوں اور پیشگی اقدامات کے لیے بھی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ خلیجی خطے میں معاہدات کی شکست و ریخت اور سیاسی و سفارتی ڈیڈلاک کے بعد صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے خلیجی خطے میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ پیٹرولیم اور توانائی کی سپلائی لائنز کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس جغرافیائی سیاسی بحران کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ ایران کی جانب سے پیشگی حملے کی یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلے سے ہی تناؤ عروج پر ہے۔ ایرانی فوج کے اعلیٰ حکام کا عزم ہے کہ ملک کی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور مختلف ممالک اس بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ایک بڑی تباہی کو روکا جا سکے۔