LIVE
Loading Breaking News...

حصص بازار کی صورتحال، جیوپولیٹیکل کشیدگی اور میٹل اسٹاکس میں تیزی

News Image
عالمی سیاسی کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتوں کے باعث ملکی حصص بازار جمعہ کے روز بغیر کسی بڑے اتار چڑھاؤ کے معمول کی سطح پر بند ہوا۔ تاہم سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کے باوجود میٹل اور دیگر منتخب شعبوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔
جمعہ کے روز ملکی حصص بازار میں کاروبار کا اختتام انتہائی محتاط انداز میں ہوا کیونکہ دنیا بھر بالخصوص مشرق وسطیٰ اور ایران کے گرد منڈلاتی جیوپولیٹیکل کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو سوچ بچار پر مجبور کر رکھا تھا۔ اس غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی بلند عالمی قیمتوں کے باعث سرمایہ کاروں کا جذبہ قدرے دباؤ کا شکار رہا جس کی وجہ سے اہم انڈیکسز میں کوئی بڑا رجحان دیکھنے میں نہیں آیا اور مارکیٹ بظاہر سست روی کا شکار دکھائی دی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ اقتصادی ماحول میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں ایک اہم محرک بنی ہوئی ہیں جن کے بڑھتے ہوئے اثرات براہِ راست کاروباری سرگرمیوں اور تجارتی اخراجات پر پڑتے ہیں۔ ایران کے آس پاس پیدا ہونے والی حالیہ سیاسی کشیدگی نے عالمی منڈیوں میں اضطراب کی لہر دوڑا دی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بڑے سرمایہ کار کسی بھی قسم کا بڑا خطرہ مول لینے سے گریزاں نظر آ رہے ہیں۔ اسی محتاط فضائی کیفیت کی بناء پر بازار میں خریداری کا حجم توقع سے کم رہا۔ اس کے باوجود، بازار کے کچھ مخصوص شعبوں میں مثبت رجحان بھی دیکھنے میں آیا جن میں میٹل کے حصص نمایاں رہے۔ میٹل سیکٹر کے اسٹاکس میں خریداروں کی دلچسپی برقرار رہی جس کی وجہ سے اس شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز میں بہتری ریکارڈ کی گئی اور مجموعی انڈیکس کو سہارا ملا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر دھاتوں کی طلب اور سپلائی کے توازن نے اس شعبے کو وقتی مندی سے بچائے رکھا۔ آئندہ آنے والے کاروباری ایام کے حوالے سے مالیاتی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ سرمایہ کاروں کو حالات پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ جب تک عالمی سیاست اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی، بازار میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے معاشی اشاریوں کا بغور جائزہ لینا ضروری ہو گا۔