World
فرانسیسی کارروائی: برطانیہ جانے والے ہزاروں تارکین وطن گرفتار
برطانیہ اور فرانس کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت فرانسیسی حکام نے اپنے پہلے تین ماہ میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ اس دوران ہزاروں غیر قانونی تارکینِ وطن کو برطانوی ساحلوں تک پہنچنے سے کامیابی کے ساتھ روک دیا گیا ہے۔
برطانیہ اور فرانس کے درمیان طے پانے والے نئے اور تاریخی معاہدے کے تحت فرانسیسی سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے پہلے تین ماہ کے دوران ہی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، برطانوی مالی معاونت سے کام کرنے والے فرانسیسی اداروں نے اپنے آغاز کے بعد سے اب تک 185 سے زائد غیر قانونی کشتیوں کو برطانوی ساحلوں کی طرف جانے سے روکا ہے۔ اس دوران تقریباً 4300 تارکینِ وطن کو بھی سفر جاری رکھنے سے باز رکھا گیا ہے جو خطرناک سمندری راستے سے برطانیہ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
فرانسیسی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی حالیہ شراکت داری غیر قانونی تارکینِ وطن کے اس خطرناک رجحان کو روکنے میں کافی حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ برطانوی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز کو فرانسیسی ساحلوں پر گشت بڑھانے، جدید نگرانی کے آلات کی خریداری اور عملے کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس تعاون کے نتیجے میں نہ صرف انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو شدید دھچکا لگا ہے بلکہ انگلش چینل کے راستے ہونے والے غیر قانونی داخلے کی کوششوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
دونوں ممالک کے سکیورٹی حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مشترکہ کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔ ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے پر مخلوط ردعمل کا اظہار کرتی رہی ہیں، تاہم برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سمندر میں ہونے والے ممکنہ جانی نقصان کو روکنے اور سرحدی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔ متوقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس معاہدے کے تحت گشت کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ اس غیر قانونی نقل و حرکت پر مکمل قابو پایا جا سکے۔