Education
ملازمت کے لیے ضروری ہنر اور اسکلز بیسڈ ہائرنگ کا رجحان
نیشنل ایسوسی ایشن آف کالجز اینڈ ایمپلائرز کے حالیہ سروے کے مطابق نصف سے کم طلباء اسکلز بیسڈ ہائرنگ سے آگاہ ہیں۔ جدید مارکیٹ میں ملازمت کے حصول کے لیے روایتی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ مخصوص اور عملی مہارتوں کا ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔
موجودہ دور میں گلوبل جاب مارکیٹ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جہاں روایتی تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ مخصوص عملی مہارتوں کو بنیادی ترجیح دی جا رہی ہے۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف کالجز اینڈ ایمپلائرز (NACE) کے 2026 کے طلبا سروے کے مطابق، جس میں پچاسی ہزار سے زائد طلباء شامل تھے، پچاس فیصد سے بھی کم طلباء ’اسکلز بیسڈ ہائرنگ‘ یعنی مہارت پر مبنی ملازمتوں کے تصور سے واقف ہیں۔ یہ اعداد و شمار تعلیمی اداروں اور پروفیشنل مارکیٹ کے درمیان پائے جانے والے ایک بڑے خلا کو واضح کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آجرین اب صرف ڈگری کے حامل امیدواروں کو ترجیح دینے کے بجائے ایسے افراد کو تلاش کرتے ہیں جو مخصوص اور عملی ٹیکنیکل ہنر رکھتے ہوں اور فوری طور پر کارآمد ثابت ہو سکیں۔
اس نئے معاشی ماحول میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے طلباء کو محض روایتی نصاب تک محدود رہنے کے بجائے مارکیٹ کی نبض کو پہچاننا ہوگا۔ آج کی کارپوریٹ دنیا میں ڈیٹا اینالیٹکس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، اور پروجیکٹ مینجمنٹ جیسی صلاحیتوں کی مانگ دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ کمپنیوں کا ماننا ہے کہ مخصوص مہارتیں رکھنے والے ملازمین زیادہ پیداواری ہوتے ہیں اور وہ بدلتی ہوئی کاروباری ضروریات کے مطابق خود کو جلدی ڈھال سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی معروف کمپنیاں اب بھرتی کے روایتی طریقوں کو ترک کر کے اسکلز بیسڈ اسیسمنٹس اور پریکٹیکل ٹیسٹس کی طرف منتقل ہو رہی ہیں تاکہ وہ بہترین ٹیلنٹ کا انتخاب کر سکیں۔
دوسری جانب، جامعات اور تعلیمی اداروں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نصاب میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تبدیلیاں لائیں۔ کیریئر کونسلنگ کے مراکز کو چاہیے کہ وہ طلباء کو مارکیٹ کی بدلتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کریں اور انہیں عملی تربیت فراہم کریں۔ اس کے علاوہ، آن لائن کورسز اور مائیکرو کریڈینشلز کے ذریعے بھی طلبا اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ مستقبل کا کیریئر اسی صورت میں محفوظ بنایا جا سکتا ہے جب نوجوان نسل تعلیمی فراغت کے ساتھ ساتھ درکار عملی ہنر سے بھی پوری طرح لیس ہو، تاکہ وہ آجرین کی توقعات پر پورا اتر سکیں اور اپنے لیے روشن مستقبل کی راہ ہموار کر سکیں۔