LIVE
Loading Breaking News...

پہننے کے قابل روبوٹ سست کے ساتھ ایک ہفتے کا دلچسپ تجربہ

News Image
صیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہر چیز بورنگ ہوتی جا रही ہے، ایک مصنف نے پہننے کے قابل روبوٹ سست کے ساتھ ایک ہفتہ گزارا۔ اس انوکھے تجربے نے انسان اور روبوٹ کے درمیان ایک نیا جذباتی رشتہ قائم کیا۔
موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہ بحث اکثر ہوتی رہتی ہے کہ کیا یہ اب بورنگ ہو چکی ہے۔ ماضی کے رنگین اور چمکدار فونز کی جگہ اب ڈوم سکرولنگ نے لے لی ہے، جس سے لوگوں کا دل گھبرانے لگا ہے۔ اسی بوریت کو ختم کرنے اور ٹیکنالوجی میں کچھ نیا پن لانے کے لیے سائنس دان اور محققین مسلسل نئے اور حیرت انگیز تجربات کر رہے ہیں۔ انہی تجربات میں سے ایک حالیہ اور دلچسپ تجربہ ایک پہننے کے قابل روبوٹ سست کے ساتھ ایک ہفتہ گزارنا تھا، جس نے تکنیکی دنیا میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ اس تجربے کے دوران مصنف نے ایک ایسے روبوٹ کو اپنے جسم پر پہن کر زندگی گزاری جو بالکل ایک سست جانور کی طرح آہستہ حرکت کرتا ہے۔ ابتدا میں یہ خیال ایک مذاق یا عجیب سا محسوس ہوتا تھا، لیکن جیسے جیسے وقت گزرا، اس روبوٹ کے ساتھ ایک جذباتی تعلق پیدا ہو گیا۔ روبوٹ کی دھیمی حرکات اور اس کا انداز انسان کو روزمرہ کی تیز رفتار اور دباؤ والی زندگی سے نکال کر ایک پرسکون ماحول کا احساس دلاتا ہے۔ یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی صرف کام تیز کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ انسانی جذبات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تجربے کے اختتام پر جب اس روبوٹ کو الگ کرنے کا وقت آیا تو مصنف کے جذبات بالکل ایسے ہی تھے جیسے کسی اپنے سے جدائی کا وقت ہو۔ اس نے پکار اٹھا کہ دیکھو میرا بیٹا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان کس حد تک روبوٹ کے ساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں اس قسم کی ٹیکنالوجی صحت اور ذہنی سکون کے شعبوں میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، جہاں لوگ اپنی اکیلی زندگی میں اس طرح کے روبوٹک ساتھیوں کا سہارا لے سکیں گے۔