LIVE
Loading Breaking News...

لندن ڈیٹا سینٹر اور کاربن اخراج کا مسئلہ: برطانیہ کے زیرو گولز کو خطرہ

News Image
لندن میں ڈیجیٹل ریف کے مجوزہ نئے ڈیٹا سینٹر کے قیام سے سالانہ 10 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ برطانیہ کے مجموعی ماحولیاتی اہداف اور معاشی ترقی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کو نمایاں کرتا ہے۔
لندن میں ڈیجیٹل ریف کی جانب سے ایک نئے ڈیٹا سینٹر کے قیام کا منصوبہ زیرِ بحث ہے، جو ماحولیاتی تنظیموں اور حکومت کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس مجوزہ ڈیٹا سینٹر سے سالانہ تقریباً 10 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع اور معاشی ترقی کے تقاضے ماحولیاتی پائیداری کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے پروجیکٹس کا ماحول پر گہرا اثر پڑتا ہے، جس سے ملک میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب، یہ منصوبہ برطانیہ کے سرکاری سطح پر طے شدہ 'نیٹ زیرو' یعنی کاربن کے اخراج کو صفر تک لانے کے اہداف سے براہِ راست متصادم دکھائی دیتا ہے۔ برطانوی حکومت نے آنے والے برسوں میں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور صاف توانائی کے فروغ کے لیے سخت ضابطے نافذ کیے ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، ڈیجیٹل ریف کا یہ بڑا منصوبہ حکومتی پالیسیوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن گیا ہے، کیونکہ ایک طرف ملک کو ڈیجیٹلائزیشن اور اے آئی ٹیکنالوجی کے لیے مزید ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت ہے، تو دوسری طرف ماحولیات کا تحفظ بھی قومی ترجیح ہے۔ اس تنازعے نے معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے مابین ایک پرانی بحث کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین اور کاروباری حلقے کا مؤقف ہے کہ جدید معیشت کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز ناگزیر ہیں، جبکہ ماحولیاتی کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ طویل المدتی بقا کے لیے سبز توانائی اور سخت ریگولیشنز کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کی منظوری یا تردید سے یہ واضح ہو گا کہ برطانوی حکومت معیشت اور ماحولیات میں سے کس کو ترجیح دیتی ہے۔