World
امریکہ ایران کشیدگی اور پاکستان کا مؤقف
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 60 روزہ مفاہمت کی یادداشت کے خاتمے کے بعد خطے میں سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ پاکستان نے اس صورتحال میں فریقین کے مابین رابطے جاری رکھنے اور امن کی راہ تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی ساٹھ روزہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی مدت ختم ہونے کے بعد خطے میں سیاسی اور عسکری سطح پر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیشرفت کے بعد خطے کے ممالک خاص طور پر پاکستان نے اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو روکا جا سکے۔ اسلام آباد میں حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی ذرائع سے رابطے ناگزیر ہیں اور پاکستان اس ضمن میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے حالیہ بیانات میں فوجی حکمت عملی کو دفاعی سے ہٹا کر جارحانہ انداز میں ڈھالنے کا عندیہ دیا گیا ہے، جس سے خطے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور دباؤ کے پیش نظر اب پیشگی اقدامات یا جارحانہ پوزیشن اپنانا ان کے دفاعی اصولوں کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفارت کاری فی الوقت جمود کا شکار نظر آتی ہے جس کی وجہ سے خلیجی خطے میں ایک بار پھر ڈیڈلاک کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ چین اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو محفوظ بنایا جا سکے۔ پاکستان کے خارجہ امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نازک موڑ پر تمام فریقین کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ کوئی بھی غلط فہمی ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ نہ بنے۔ اسلام آباد کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کے تنازع کا حصہ بننے کے بجائے امن اور مصالحتی کوششوں کی حمایت کرے گا۔ آنے والے دنوں میں خطے کے دورے اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے متوقع ہیں جو اس بات کا تعین کریں گے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔