LIVE
Loading Breaking News...

مکہ معاہدہ اور پاکستان، سعودی عرب، ترکی کا نیا دفاعی اتحاد

News Image
مکہ معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان نئے دفاعی تعاون کا آغاز ہو گیا ہے جس نے خطے میں ایک نئے سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس معاہدے کو جہاں عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، وہیں اس پر کچھ ممالک کی طرف سے ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے۔
حال ہی میں طے پانے والا مکہ معاہدہ خطے میں سیاسی اور عسکری توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ایک مضبوط سہ رخی محور کو جنم دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور تجزیہ کار اسے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک نیا باب قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک سکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی تیاریوں کے شعبوں میں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، جس سے خطے میں ایک نیا سکیورٹی آرکیٹیکچر تشکیل پا رہا ہے۔ اس معاہدے کے منظر عام پر آنے کے بعد عالمی رہنماؤں کی طرف سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی قیادت نے اس دفاعی اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک بڑا، جرات مندانہ اور اہم پہلا قدم قرار دیا ہے، جس سے خطے میں استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔ تاہم، دوسری طرف اس معاہدے پر علاقائی سطح پر خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص بھارت کی جانب سے اس سکیورٹی اتحاد بالخصوص ترکی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس سے علاقائی سیاست میں تناؤ بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس نئے سکیورٹی ڈھانچے کے جڑ پکڑنے سے خطے کے طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محور نہ صرف عسکری بلکہ اقتصادی اور سفارتی سطح پر بھی اثر انداز ہوگا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی تاریخی اور ثقافتی وابستگیوں کی بنیاد پر قائم ہونے والا یہ اتحاد آنے والے وقتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ تمام متعلقہ فریقین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ معاہدہ مستقبل کے بین الاقوامی تعلقات کی نئی تعریف طے کرنے جا رہا ہے۔