LIVE
Loading Breaking News...

پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کے لیے نیا ٹول متعارف، خواتین کے لیے امید کی کرن

News Image
پھیپھڑوں کا کینسر خواتین میں چھاتی اور دانی کے کینسر کے مجموعی نقصان سے بھی زیادہ اموات کا سبب بنتا ہے۔ حال ہی میں اس جان لیوا مرض کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے ایک جدید میڈیکل ٹول متعارف کرایا گیا ہے۔
پھیپھڑوں کا کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، یہ بیماری خواتین میں چھاتی کے کینسر اور دانی کے کینسر کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین اور سائنسدان طویل عرصے سے اس مرض کی ابتدائی مراحل میں تشخیص کے لیے مؤثر ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ حالیہ پیش رفت کے تحت، ڈاکٹروں اور محققین نے پھیپھڑوں کی امیجنگ اور اسکریننگ کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک نیا ٹول تیار کیا ہے۔ اس جدید تکنیک کی مدد سے پھیپھڑوں میں موجود چھوٹے چھوٹے پلمونری نوڈیولز کو انتہائی ابتدائی مرحلے میں ہی تلاش کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ جب مریض ڈاکٹر کے پاس اسکریننگ کے لیے جاتے ہیں اور یہ چھوٹے نوڈیولز سامنے آتے ہیں، تو یہ نیا ٹول معالجین کو درست فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے کہ آیا مزید علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس نئے ٹول کے آنے سے نہ صرف خواتین میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کے عمل میں تیزی آئے گی بلکہ بروقت علاج شروع ہونے کی وجہ سے مریضوں کی شرحِ اموات میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی تشخیص ہی کینسر کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار ہے، اور یہ نئی طبی پیش رفت اس سمت میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ طبی ادارے اور ہسپتال اب اس ٹول کو اپنے روزمرہ کے معمولات میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مریضوں بالخصوص خواتین کو اس سے مستفید کیا جا سکے۔ حکومتوں اور صحت عامہ کے اداروں سے بھی اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ پھیپھڑوں کے کینسر کی اسکریننگ کے پروگراموں کو وسعت دیں تاکہ عام لوگ اس جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی حاصل کر سکیں اور بروقت اپنی جانیں بچا سکیں۔