Technology
کیرالہ زرعی یونیورسٹی کا کاجو کے پودوں کے لیے ماحول دوست متبادل
کیرالہ زرعی یونیورسٹی نے جنگی تحقیقاتی ادارے کے اشتراک سے پلاسٹک پولی بیگز کے متبادل کے طور پر ناریل کے ریشے سے بنے روٹ ٹرینرز کامیابی سے متعارف کرا دیے ہیں۔ یہ ماحول دوست اقدام کاجو کی پودوں کی تیاری میں پلاسٹک کے استعمال کو ختم کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔
کیرالہ زرعی یونیورسٹی (KAU) نے کیرالہ فارسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے باہمی تعاون سے کاجو کی پیوند کاری کے شعبے میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پلاسٹک پولی بیگز کے متبادل کے طور پر ناریل کے ریشے سے تیار کردہ روٹ ٹرینرز (Coir Fibre Root Trainers) کامیابی کے ساتھ متعارف کرا دیے ہیں۔ زرعی ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی طور پر پودوں کی افزائش کے لیے استعمال ہونے والے پلاسٹک پولی بیگز ماحول کے لیے شدید نقصان دہ ہیں کیونکہ یہ ضائع ہونے کے بعد صدیوں تک ختم نہیں ہوتے اور مٹی کی زرخیزی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس نئے ماحول دوست طریقہ کار سے نہ صرف پولی بیگز کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ زرعی شعبے میں پائیداری کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ اس تحقیق اور منصوبے کے تحت ناریل کے اضافی ریشوں کو خاص تکنیک کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے ایسے روٹ ٹرینرز بنائے گئے ہیں جو پودوں کی جڑوں کی بہترین نشوونما کے لیے موافق ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روٹ ٹرینرز پودوں کی جڑوں کو مناسب ہوا اور پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ روایتی پلاسٹک بیگز کے برعکس ان سے پودوں کو زمین میں منتقل کرنا بھی انتہائی آسان اور محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس نئی تکنیک کی بدولت کاجو کے پودے زیادہ صحت مند اور مضبوط جڑوں کے ساتھ تیار ہو رہے ہیں جس سے ان کی بقا کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کیرالہ زرعی یونیورسٹی کے اس اقدام کو ملک بھر میں زرعی سائنسدانوں اور ماحولیاتی ماہرین کی طرف سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو نہ صرف کاجو کے کسانوں تک وسعت دی جائے بلکہ اسے دیگر باغبانی اور جنگلات کے پودوں کی افزائش کے لیے بھی بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے تاکہ زرعی شعبے کو مکمل طور پر پلاسٹک سے پاک کیا جا سکے۔