LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور ٹرمپ کم مذاکرات کا مستقبل

News Image
شمالی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے کہ وہ سال کے آخر میں کم جونگ ان سے ملاقات کریں گے۔ اس کشیدہ صورتحال نے خطے میں ایک بار پھر سکیورٹی خدات کو جنم دیا ہے۔
شمالی کوریا نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں بیلسٹک میزائلوں کا ایک سلسلہ فائر کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ سال کے آخر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا انعقاد کریں گے۔ اس اقدام نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اس بات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ آیا دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات میں کوئی بہتری آ سکتی ہے یا نہیں۔ جنوبی کوریا کے عسکری ذرائع کے مطابق یہ میزائل تجربات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ہمیشہ سے مذاکرات کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی صلاحیتوں کو مظاہرے کے ذریعے منوانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ دوسری جانب، خطے کے دیگر ممالک بالخصوص جنوبی کوریا اور جاپان نے ان میزائل تجربات کو خطے کے امن کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ ان ممالک کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی برادری کو شمالی کوریا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ وہ اس طرح کی اشتعال انگیزی سے باز رہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا دونوں فریقین تمام تر تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں یا پھر تناؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔