World
مشرق وسطیٰ جنگ: امریکہ کے ایران پر حملے اور مصری بندرگاہ پر کارروائی
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید وسعت آ گئی ہے جہاں امریکی افواج نے ایران کے خلاف کارروائیاں تیز کرتے ہوئے ایک مصری بندرگاہ پر بھی حملہ کیا ہے۔ دوسری جانب دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بھاری نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ اب ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں امریکی افواج اور ایران کے درمیان محاذ آرائی میں مسلسل وسعت آ رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے اہم علاقائی حصوں بالخصوص مصری بندرگاہ پر بھی حملے کیے ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں اور ایرانی خطرات کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں امریکی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے اردن میں امریکی تنصیبات پر حملے کرکے تین ایف پینتیس (F-35) لڑاکا طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن کی مالیت تین سو ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔ تاہم، امریکی فوج نے ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں ان کا کوئی بھی طیارہ نشانہ نہیں بنا اور تمام اثاثے محفوظ ہیں۔
اس همہ گیر جنگی صورتحال کے پیش نظر عالمی رہنماؤں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے خطے میں انسانی بحران اور تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے فوری طور پر جنگ بندی یا سفارتی مذاکرات کا راستہ اختیار نہ کیا تو یہ تصادم پوری عالمی معیشت اور خطے کے استحکام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔